تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 483
وَاسْتُعِیْرَ لِلشَّرِیْعَۃِ اور یہ لفظ بالواسطہ شریعت یا قانون کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(مفردات) تفسیر۔بَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ۠ میں تلاشی لینے والا اعلان کرنے والا ہی تھا بَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ۠ میں تلاشی لینے والا وہی شخص معلوم ہوتا ہے جس نے اعلان کیا تھا نہ کہ حضرت یوسفؑ اور قَبْلَ وِعَآءِ اَخِيْهِ سے مراد حضرت یوسفؑ کے بھائی سے ہے چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر پاس ہی گزرا ہے اس طرح ضمیر کو پھیرا جاسکتا تھا۔بِن یامین کی تلاشی سب سے آخر میں ان کے ادب کی وجہ سے لی اس تلاشی لینے والے نے بن یامین کی تلاشی سب سے آخر اس لئے نہیں لی کہ وہ جانتا تھا کہ آخر میں ان کے اسباب سے پیالہ نکالوں گا بلکہ اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی ان پر مہربانی دیکھ کر وہ طبعاً ان کا ادب کرنا چاہتا تھا اور ان پر گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ان کے اسباب میں سے پیالہ نکلے گا۔كِدْنَا لِيُوْسُفَ سے معلوم ہوتا ہے کہ بن یامین کو حضرت یوسف کے پاس رکھنے کی تدبیر خدا کی طرف سے تھی كِدْنَا لِيُوْسُفَ سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تدبیر کی تھی۔پھر تعجب ہے کہ مفسرین یوسف علیہ السلام پر ہی الزام دھرتے چلے جاتے ہیں۔حق یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سامان پیدا کر دیا کہ یوسف علیہ السلام نے بھول کر برتن رکھ دیا۔بھائیوں کے منہ سے نکل گیا کہ جس کے اسباب میں برتن نکلے اسے پکڑ لینا اور اس طرح وہ بھائی کو پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ان کے جانے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اصل حقیقت ظاہر کر دی ہوگی اور بن یامین کی برأت لوگوں کی نظر میں ہو گئی ہوگی۔پس یہ سب ایک الٰہی تصرف کے ماتحت ہوا۔بھائیوں کو شور کرنے کا موقع بھی نہ ملا اور بن یامین یوسف علیہ السلام کے پاس رہ بھی گئے۔مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ میں فی کے معنے سبب کے ہیں مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ۔فِیْ کے معنی سبب کے بھی ہوتے ہیں۔جیسے حدیث میں آتا ہے عُذِّبَتْ إِمْرَاۃٌ فِی ھِرَّۃٍ حَبَسَتْھَا حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا فَدَخَلَتْ فِیْھَا النَّارَ(بخاری کتاب المساقاۃ باب فضل سقی المآء)۔یعنی ایک عورت عذاب میں مبتلا کی گئی صرف اس وجہ سے کہ اس نے ایک بلی کو باندھ دیا اور وہ بیچاری بھوکی مر گئی۔فِیْ کے ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قانونِ شاہی کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کو روک نہیں سکتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کے روکنے کی ایک تدبیر پیدا کردی۔کسی کے قانون کے ماتحت رہنا نبی کی شان کے خلاف نہیں اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جب