تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 482

فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ۠ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ پس اس نے اس کے( یعنی یوسف کے) بھائی کے بورے سے پہلے ان (دوسروں) کے بوروں کو( دیکھنا) شروع وِّعَآءِ اَخِيْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ کیا۔پھر اس کے بھائی کے بورے (کو دیکھا اور اس میں اس پیالہ کو پا کر اس) میں سے اسے نکالا۔اس طرح ہم اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ نے یوسف کے لئے(ایک) تدبیر کی( ورنہ) وہ بادشاہ کے قانون کے اندر( رہتے ہوئے) اپنے بھائی کو روک( کر مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ۰۰۷۷ اپنے پاس )نہیں (رکھ) سکتا تھا۔سوائےاس (صورت) کے کہ اللہ( تعالیٰ) کی (یہی) مشیت ہوتی۔ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر (اس سے )زیادہ علم والا( شخص پایا جاتا)ہے۔حلّ لُغَات۔بَدَأَ بَدَأْتُ بِالشَّیْءِ کے معنے ہیں اِبْتَدَأْتُہٗ اسے شروع کیا۔بَدَأَ بِفُلَانٍ قَدَّمَہٗ اسے پہلے رکھا اور بَدَأَ بِاَوْعِیَتِھِمْ کے معنے ہوں گے پہلے ان دوسروں کے بوروں کو دیکھنا شروع کیا۔(اقرب) (مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت۶) اَلْوِعَاءُ۔اَلظَّرْفُ یُوْعٰی فِیْہِ الشَّیءُ۔وِعَاءٌ ایسی چیز کو کہتے ہیں جس میں سامان کو محفوظ کرکے رکھا جائے اس کی جمع اَوْعِیَۃٌ ہے۔(اقرب) کَادَلَہٗ اِحْتَالَ لَہٗ جب کَادَ کا صلہ لام آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس کے حق میں تدبیر کی اور کِدْنَا لِیُوْسُفَ کے معنے ہوئے ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔(اقرب) یَاْخُذُ۔یَاْخُذُ اَخَذَ میں سے ہے جس کے معنے ہیں حَبَسَہٗ۔اسے روک لیا۔(اقرب) الدِّیْنُ دَانَ دِیْنًا۔اَطَاعَ۔دَانَ جس کا مصدر دین ہے اس کے معنے ہیں اطاعت کی فُلَانًا خَدَمَہٗ خدمت کی۔خدمت ادا کی۔حَکَمَ عَلَیْہِ۔حکم لگایا، فیصلہ کیا۔اَلدِّیْنُ اَلطَّاعَۃُ دین کے معنی ہیں فرمانبرداری۔اَلْقَضَاءُ۔فیصلہ۔(اقرب)