تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 460
ہے۔آگے وہ باہر آکر دوسروں کے اثر سے ناپاک ہوتا ہے۔یا جو اسے ناپاک نہ ہونے دے اس کو پاک رکھتا ہے۔غرض اس جگہ نفس کی پیدائش کی حالت کا ذکر نہیں ہےبلکہ دنیوی آلائشوں سے ملوث ہونے کے بعد کا ذکر ہے۔اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ کے تین معنی اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْکے ایک تو یہ معنی ہیں کہ اِلَّا النَّفْسَ الّتِیْ رَحِمَھَا رَبِّیْ فَاِنَّھَا لَاتَأْمُرُ بِالسُّوْءِ یعنی وہ نفس جس پر خدا رحم کردے یعنی نفس مطمئنہ وہ بدی کا حکم نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ مَامَنْ کی جگہ استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ اِلَّا الَّذِیْ رَحِمَہٗ رَبِّیْ سوائے اس شخص کے جس پر اللہ رحم کرے۔باقی لوگ نفس امارہ کے حملہ کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔پس جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی بات نہیں مانتے۔تینوں معنے مختلف درجوں کے لوگوں کے لحاظ سے ہیں تیسرے یہ کہ یہ استثناء منقطع ہے اور ما مصدریہ ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت جسے چاہے بچا لے۔یہ تینوں معنے مختلف درجوں کے لوگوں کے لحاظ سے ہیں۔یعنی (۱) بعض نفس پاک ہوجاتے ہیں اور وہ برائی کا حکم ہی نہیں دیتے۔یہ اعلیٰ درجہ کے ہیں۔(۲) اس سے ادنیٰ درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ ان کا نفس تو بدی کا حکم دیتا ہے لیکن وہ نفس سے مغلوب نہیں ہوتے۔یہ درمیانی درجہ کے ہیں۔(۳) اس سے ادنیٰ درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ اپنے نفس امارہ سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔مگر خداوند تعالیٰ کی رحمت ان کو بچادیتی ہے اور انہیں توبہ کی توفیق مل جاتی ہے۔اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌکہنے کی وجہ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں تو غفور رحیم رب کا بندہ ہوں اس لئے میرا بھی یہی فرض تھا کہ دوسرے کے گناہوں پر پردہ ڈالتا لیکن یہاں چونکہ سوال خدا تعالیٰ کی عزت کا تھا اس لئے میں خاموش نہیں رہا۔