تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 459
کے لئے نہیں کی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے اظہار کے لئے کی ہے۔دوسرے میں نے اس لئے برأت کی کوشش کی ہے کہ تا بتاؤں کہ جن کو اللہ تعالیٰ بچاتا ہے انہیں کوئی شخص بدی میں نہیں ڈال سکتا ورنہ اپنے نفس کی بڑائی کی خاطر میں نے یہ کام نہیں کیا۔نیّر الہام ہی نفس کو صحیح راستہ پر چلاتا ہے بلکہ مجھے تو اقرار ہے کہ نفس انسانی بغیر اللہ تعالیٰ کے رحم کے یعنی شریعت اور ہدایت اور فضل کے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔بلکہ پے درپے بری باتوں کا حکم دیتا چلا جاتا ہے کیونکہ نیّرِ الہام ہی ہے جو اسے صحیح راستہ پر چلاتا ہے۔الَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ سے مراد کلام الٰہی ہے قرآن کریم نے دوسری جگہ پر بتلایا ہے کہ اَلرَّحْمٰنُ۔عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔(الرحمٰن:۲)رحمانیت سے ہی کلام الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔پس اِلَّامَارَحِمَ رَبِّیْ سے مراد وہی رحمت ہے یعنی کلام الٰہی۔بغیر اس کے انسانی فطرت ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو خطرناک تاریکی میں پہاڑ کی چوٹیوں پر سے گزر رہا ہو۔کیونکہ باوجود آنکھوں کے ہر وقت خطرہ ہی ہوتا ہے اور بار بار غلطیاں کرتا ہے۔جب الہام کا سورج چڑھتا ہے تبھی روحانی آنکھ بھی کام دیتی ہے۔نفس کی تین حالتیں دوسری جگہ قرآن کریم نے نفس کی دواور حالتیں بتلائی ہیں۔لَوَّامَۃ ایک نفس لوامہ۔جیسا کہ فرماتا ہےوَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ( القیامۃ:۳) مُطْمَئِنَّۃ اور دوسری نفس مُطْمَئِنَّہ جیسے کہ فرماتا ہےيٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔(الفجر:۲۸،۲۹) نفس امارہ سے مراد پس اس جگہ نفس سے مراد وہ ابتدائی حالت ہے جبکہ الہام سے نفس کو ناآشنائی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وہ وارث نہیں ہوتا۔ورنہ یہ مراد نہیں کہ انسانی نفس ہمیشہ بدی کی تعلیم دیتا ہے۔اس کا رد خود اس آیت میںاِلَّا مَارَحِمَ رَبِّیْ کہہ کر کردیا ہے۔انسان اپنی ذات میں گنہ گار پیدا نہیں ہوا اور نہ یہ مراد ہے کہ انسان اپنی ذات میں گنہگار پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اس جگہ پیدائش کا ذکر نہیں ہے۔بلکہ دنیاوی آلائشوں کا شکار ہونے کے بعد جو اس کی حالت ہوتی ہے اس کا ذکر ہے۔ورنہ پیدائش کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’ وَنَفْسٍ وَمَا سَوّٰھَا‘‘(الشمس:۸) ہم نفس کی قسم کھاتے ہیں اور اس کی اس حالت کمال کی جو ہم نے پیدا کی ہے۔نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک حالت میں کیا ہے پس نفس انسانی کو اللہ تعالیٰ نے پاک حالت میں پیدا کیا