تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 429

ماضی کا صیغہ سمجھا جائے تو حَاشَ لِلہِ کے معنے ہوں گے وہ خدا کے لئے (اس بات سے) ڈرا اور اس سے دور رہا ہے۔ابواالبقاء جلالین کے حاشیہ میں لکھتا ہے حَاشَ لِلہِ فَاعِلُہٗ مُضْمَرٌ۔تَقُوْلُ حَاشَ یُوْسُفُ بِخَوْفِ اللہِ۔یعنی حَاشَ کا فاعل مضمر ہے اور معنے یہ ہیں کہ یوسف خدا کی خاطر اس فعل سے ڈرا اور اگر یہ حَاشٰی میں سے فعل امر کا صیغہ ہو تو یہ معنے ہوں گے کہ اے مخاطب تو خدا کے لئے اسے دوسروں سے الگ رکھ اور اسے دوسروں جیسا مت سمجھ۔یہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور اس صورت میں کسرہ بغرض تخفیف فتحہ سے تبدیل شدہ سمجھا جائے گا اور اگر اسے فعلی صیغوں اور تصاریف پر نہ پرکھا جائے بلکہ محاورات اور امثال کی طرح سمجھا جائے تو بھی اس کے معنے یہی ہوں گے جیسا کہ اقرب الموارد کی اوپر کی عبارت میں بحوالہ ایضاح بیان ہوا ہے اس صورت میں بھی بعض نحوی اس کا نام فعل رکھتے ہیں۔بعض اسے اسم اور بعض حرف کہتے ہیں اور بعض اسے اسم الفعل کہتے ہیں اور مغنی اللبیب میں ہے وَالصَّحِیْحُ اَنَّہَا اِسْمٌ مُرَادِفٌ لِلْبَرَاءَ ۃِ بِدَلِیْلِ قِرَاءَ ۃِ بَعْضِہِمْ حَاشًا لِلہِ بِالتَّنْوِیْنِ کَمَا یُقَالُ بَرَاءَ ۃً لِلہِ مِنْ کَذَا۔وَعَلٰی ھَذَا فَقِرَاءَ ۃُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ حَاشَ اللہِ کَمَعَاذِ اللہِ یعنی صحیح قول یہ ہے کہ یہ اسم ہے جو بَرَاءَ ۃٌ کا ہم معنے ہے۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک قِرَاءَ ۃ میں حاشًا لِلہِ بھی آیا ہے جیسا کہ بَرَاءَ ۃً للہِ محاورہ ہے اور اس تحقیق کی رو سے ابن مسعود والی قراء ۃ حاش اللہِ میں معاذاللہ کی طرح حاش مفعول مطلق ہوگا۔تفسیر۔عزیز کی بیوی کا ان عورتوں کودعوت دینا یعنے اسے جب یہ معلوم ہوا کہ وہ عورتیں ایسے رنگ میں کلام کررہی ہیں کہ لوگ یہ خیال کریں کہ گویا بدی کا ارتکاب ہو گیا ہے اور بظاہر خیرخواہانہ بات کرتی ہیں لیکن اصل میں بدنام کرنا مقصود ہے تو اسے یہ خیال ہوا کہ ان کے نزدیک عزیز کی بیوی اور یوسف کا تعلق تو ہے، صرف پردہ ڈالنے کے لئے یہ بات بنائی گئی ہے کہ تعلق کوئی نہیں صرف مبادی عزیز کی بیوی کی طرف سے ظاہر ہوئے تھے۔پس ان کا یہ شبہ دور کرنے کے لئے اس نے انہیں کھانے یا ناشتہ کی دعوۃ دی۔میز وغیرہ لگائی گئی اور ہر اک کے سامنے ایک ایک چھری رکھ دی گئی۔(اس سے معلوم ہوتا ہے پرانے زمانہ سے کھانے میں چھریوں کا استعمال چلا آتا ہے اور آج کل کی طرح یہ بھی قاعدہ تھا کہ چھریاں پہلے رکھ دی جاتیں پھر کھانے کی اشیاء آتیں) اس کے بعد یوسفؑ کو حکم دیا کہ ان کے سامنے کھانا وغیرہ رکھے جب انہوں نے یوسف علیہ السلام کی شکل دیکھی تو شکل سے ہی سمجھ گئیں کہ یوسفؑ اس قسم کے آدمی نہیں ہیں اور ان کی بزرگی کی قائل ہو گئیں اور سمجھ گئیں کہ ان کا خیال غلط تھا۔یوسف علیہ السلام عزیز کی بیوی کے ساتھ شریک کار نہ تھے۔ہاتھ کاٹنے سے مراد اور یہ جو فرمایا ہے کہ انہوں نے ہاتھ کاٹے اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ ان کی