تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 428
ابن اثیر کہتا ہے کہ عَامَۃُ النَّاس اِتِّکَاء کا لفظ صرف اس طور پر سہارا لگا کر بیٹھنے کے معنے میں استعمال کرتے ہیں جس میں کسی چیز سے اپنے پہلو کو لگایا جائے۔وَھُوَیُسْتَعْمَلُ فِی الْمَعْنَیَیْنِ جَمِیْعًا لیکن درست بات یہ ہے کہ خواہ کسی چیز کا سہارا دیا جائے یا پہلو کو ہر دو صورتوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔یُقَالُ اِتَّکَأَ اِذَا اَسْنَدَ ظَہْرَہُ اَوْجَنْبَہٗ اِلٰی شَیْءٍ مُعْتَمِدًا عَلَیْہِ چنانچہ جب کوئی شخص کسی چیز سے اپنی پیٹھ کو سہارا دے یا اپنے پہلو کو ٹکائے تو ان دونوں صورتوں میں یہ لفظ بولا جاتا ہے وَکُلُّ مَنِ اعْتَمَدَ عَلٰی شَیْءٍ فَقَدْ اِتَّکَأَ عَلَیْہِ اور جس چیز کا بھی سہارا لے کر بیٹھیں اس کے لئے اِتِّکَاء کا لفظ بولا جاسکتا ہے وَالْمُتَّکَأُ مَجْلِسُ یُتَّکُأُ عَلَیْہِ اور مُتَّکَأٌ ایسی بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں جس سے سہارا لیا جائے۔(اقرب) سِکِّینٌ۔سِکِّیْنٌاسم جنس ہے جس کا واحد سِکِّیْنَۃٌ ہے۔السِّکِّینُ آلَۃٌ یُذْبَحُ بِہَا۔چھری۔اَلسِّکّیْنُۃُ السِّکِّیْنُ وَھِیَ اَخَصُّ مِنْہُ۔سِکِّیْنَۃٌ کے معنے ایک چھری کے ہیں۔یہ سَکِّیْنٌ سے خاص ہے۔کیونکہ یہ صرف واحد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اور سِکِّیْنٌ واحد اور جمع ہر دو کے لئے۔اَلطّمَأْنِیْنَۃُ کَالسِّکِّیْنۃِ سِکِّیْنَۃٌ کے معنے اطمینان اور سکینت کے بھی ہیں۔(اقرب) خَرَجَ عَلَیْہِ خَرَجَ کا صلہ عَلٰی ہو تو اس کے معنی سامنے آنے کے ہوتے ہیں۔جو ہر موقعہ کے مناسب حال الگ الگ صورت پر ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں خَرَجَ عَلَیْہِ۔اَیْ بَرَزَلِقِتَالِہِ۔جنگ کرنے کے لئے سامنے آیا۔الرَّعِیَّۃُ عَلَی الْوَالِی خَلَعَتْ طَاعَتَہٗ رعیت اپنے حاکم کی اطاعت کا جؤا اتار کر اس کے مقابلہ پر آمادہ ہو گئی۔الوَالِی عَلَی السُّلْطَانِ تَمَـرَّدَکسی علاقہ کا والی اپنے بادشاہ سے سرکش ہوکر اس کے مقابل پر کھڑا ہو گیا۔(اقرب) پس اُخْرُجْ عَلَیْہِنَّ کے معنے ہوئے ان کے سامنے آ۔اَکْبَرَہٗ اَکْبَرَہٗ رَاٰہُ کَبِیْرًا وَعَظُمَ عِنْدَہٗ اس نے اسے بڑا سمجھا اور اس کی عظمت اس کے دل میں قائم ہو گئی۔(اقرب) حَاشَحَاشَ مِنْہُ یَحِیْشُ حَیْشًا۔فَزِعَ ڈر گیا۔ڈر کر دور رہا۔(اقرب) حَاشٰی زَیْدًا مِنَ الْقَوْمِ اِسْتَثْنَاہُ۔اسے دوسروں سے الگ رکھا۔حَاشَا وَیُقَالُ فِیْہَا اَیْضًا حَاشَ وَحَشٰی۔قَالَ فِی الْاِیْضَاحِ کَلِمَۃٌ اسْتُعْمِلَتْ لِلْاِسْتِثْنَاءِ فِیْمَـا یُنَزَّہُ فِیْہِ الْمُسْتَثنٰی عَنْ مُشَارَکۃِ الْمُسْتَثْنٰی مِنْہُ فِی حُکْمِہِ۔یَعْنِی حَاشَا۔حَاشَ۔یَا حَشٰی کا لفظ ایسے موقع پر استثناء کے لئے استعمال ہوتا ہے جہاں اس کے مدخول کا شرف ظاہر کرنا اور اس شرف میں اسے باقی سب سے ممتاز اور الگ بتانا مقصود ہو۔(اقرب) پس اگر حَاشَ کو حَیْشٌ کی