تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 402
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے میں کفار کی مخالفت کی اور کہا کہ انہیں قتل نہ کرو بلکہ بعض نے تو اس معاہدہ کو زور سے تڑوا دیا جو آپؐ کو اور آپ کے اتباع کو فاقے مارنے کے متعلق کیا گیا تھا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان حدیث نقص الصحیفۃ)۔قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى يُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ (چنانچہ) انہوں نے (باپ سے جا کر)کہا ا ےہمارے باپ آپ کو (ہمارے متعلق) کیا (خدشہ) ہے کہ یوسف لَنٰصِحُوْنَ۰۰۱۲ کے متعلق آپ ہم پراعتماد نہیں کرتے۔حالانکہ ہم یقیناً اس سے (دلی) خلوص رکھتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَ مَّنَ۔تَأْمَنَّا اَمِنَہٗ وَاَمَّنَہٗ واٰمَنَہٗ وَاسْتَأْمَنَہٗ۔اَیْ جَعَلَہٗ اَمِیْنًا۔اسے امین بنایا۔(تاج العروس) نَصَحَ نَصَحَ الشَّیْءُ نَصْحًا وَنُصُوْحًا۔خَلَصَ ہر غل و غش اور کھوٹ سے پاک و صاف ہوا۔نَصَحَتْ تَوْبَتُہُ نُصُوْحًا خَلَصَتْ مِنْ شَوَائِبِ الْعَزْمِ عَلَی الرَّجُوْعِ۔توبہ عہدشکنی اور خلاف ورزی کے خیالات کی آمیزش سے بکلی پاک ہوئی۔اَلثَّوْبُ اَنْعَمَ خِیَاطَتَہٗ وَ لَمْ یَتْرُکْ فَتْقًا وَلَا خِلَالًا۔شُبِّہَ ذٰلِکَ بِالنَّصْحِ۔کپڑا ایسا سیا کہ اس میں کوئی شگاف اور رخنہ وغیرہ نہ چھوڑا۔جیسے خلوص کی حالت میں کوئی مخالف خیال باقی نہیں رہتا۔الْعَمَلَ اَخْلَصَہٗ عمل کو خالص کیا۔الْعَسْلَ صَفَّاہُ۔شہد کو پاک و صاف کیا۔(اقرب) تفسیر۔بائبل کے اور قرآن کریم کے بیان میں چھٹا اختلاف بائبل کا بیان ہے کہ ’’اور اس کے بھائی اپنے باپ کے گلے چراتے سکم کو گئے۔تب اسرائیل نے یوسف کو کہا کیا تیرے بھائی سکم میں نہیں چراتے ہیں۔آمیں تجھے ان کے پاس بھیجوں اس نے اسے کہا کہ میں حاضر ہوں‘‘۔(پیدائش باب۳۷ آیت ۱۲،۱۳) یعنی باپ نے خود یوسف علیہ السلام کو تحریک کرکے بھائیوں کے پاس بھیجا۔مگر قرآن مجید یہ بتلاتا ہے کہ بھائیوں نے قتل کا مشورہ کیا اور پھر باپ سے اجازت چاہی کہ باپ اسے ان کے ساتھ بھیجے۔بائبل کایہ بیان خود بائبل کی رو سے غلط ہے حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹوں کی کاوش کو جانتے تھے انہیں معلوم تھا کہ باقی بھائی یوسف کو کس نظرسے دیکھتے ہیں اور بائبل میں لکھا ہے ’’اور اس کے بھائیوں نے یہ دیکھ کے کہ