تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 391
فیصلہ کیا جائے اور کسی مبصر کے سامنے دونوں بیانوں کو رکھ کر اس سے پوچھا جائے کہ قرآن کریم اور بائبل میں سے کس کا شروع اچھا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ قرآن کریم نے عمدہ طور پر اس واقعہ کو شروع کیا ہے۔وہ چیز جس نے یوسفؑ کو کامیاب بنایا۔اس کی زندگی میں تغیر پیدا کیا۔اس کے بھائیوں کو دشمن بنا دیا۔اور پھر آخر غلام بناکر اس کے قدموں میں لا ڈالا۔یہی خواب تھی۔پس اگر یوسفؑ کا اس زندگی کو جس سے دنیا سبق حاصل کرسکتی ہے پیش کرنا مقصود ہو تو اس خواب سے بہتر ابتداء اس کے لئے نہیں مل سکتی۔دوسرا فرق۔قرآن کریم نے ستاروں کا ذکر پہلے اور سورج چاندکا بعد میں کیا ہے دوسرا فرق بائبل کے بیان اور قرآن کریم کے بیان میں یہ ہے کہ قرآن کریم میں گیارہ ستاروں کا پہلے ذکر ہے اور سورج اور چاند کا بعد میں لیکن بائبل میں اس کے برخلاف ہے۔چنانچہ اس میں لکھا ہے۔’’پھر اس نے دوسرا خواب دیکھا اور اسے اپنے بھائیوں سے بیان کیا۔ا ور کہا کہ دیکھو میں نے ایک خواب دیکھا کہ سورج اور چاند اور گیارہ ستاروں نے مجھے سجدہ کیا اور اس نے یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بیان کیا۔‘‘ (پیدائش باب۳۷ آیت ۹،۱۰) اس اختلاف سے قرآن کریم کی برتری اور بائبل کی کمزوری نہایت واضح ہوجاتی ہے۔قرآن کریم اور بائبل دونوں متفق ہیں کہ ستاروں سے مراد بھائی اور سورج اور چاند سے مراد ماں باپ ہیں۔لیکن جیسا کہ بائبل خود تسلیم کرتی ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے عزت پا جانے کے بعد پہلے ان کے بھائی ان سے ملے ہیں اور ادب سے ان کے سامنے جھکے ہیں اور اس کے بعد ان کے باپ اور ماں ان کے پاس آئے ہیں۔پس وہ ترتیب جو قرآن کریم نے رؤیا کی بیان کی ہے درست ہے اور بائبل کی بیان کردہ ترتیب خود اس کے اپنے بیان کے مطابق غلط ہے۔یقیناً رؤیا میں انہی وجودوں کو پہلے دکھایا گیا ہوگا جنہوں نے پہلے یوسفؑ کے سامنے سر جھکانا تھا اور انہیں پیچھے دکھایا گیا ہوگا جنہوں نے بعد میں زیر سایہ آنا تھا۔لفظ سجدہ سے مراد اس آیت میں جو سجدہ کا لفظ آیا ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ واقعہ میں وہ سجدہ کریں گے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ان کے تابع ہوجائیں گےا ور ایسا ہی ہوا کیونکہ حضرت یوسفؑ کے بھائی اور ماں باپ مصر میں آکر بس گئے جہاں وہ وزارت کے مرتبہ پر فائز تھے اور اس طرح وہ لوگ ان کے تابع فرمان ہو گئے۔سورج چاند اور ستاروں سے مراد بادشاہ اور اراکین سلطنت نہیں ہوسکتے روح المعانی میں لکھا ہے کہ ماں باپ اور بھائیوں کی اطاعت چونکہ معمولی بات ہے پس یہاں سورج اور چاند سے کچھ اور مراد لینا چاہیے۔