تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 376

انبیاء کے زمانہ کے کہ ان کے اتباع میں سے کثرت ان لوگوں کی ہوتی ہے جنہوں نے خود غورکرکے اپنے لئے راستہ تیار کیا ہوتا ہے۔باقی زمانوں میں عام طور پر لوگ دوسروں کی نقل کررہے ہوتے ہیں۔پس اچھا نمونہ قائم کرنا ایک بہت بڑا ذریعہ نیکی کے قائم کرنے کا ہے۔ایسے آدمی کے گردوپیش رہنے والے لوگ ضرور اس کی نقل کرتے ہیں اور اس طرح خودبخود ایک طبقہ بداعمال سے نجات پا جاتا ہے۔دوسرا گُر قوم کو وعظ و نصیحت کرنا ہے دوسری تدبیر یہ نکلتی ہے کہ قوم کو وعظ و نصیحت کرو۔اس سے بھی بدیاں دور ہوں گی اس صورت میں حسنات کے معنے اچھی باتوں کے کئے جائیں گے۔تیسری تدبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں سے حسنِ سلوک کا معاملہ کرو۔اس سے شرارت مٹتی ہے۔جب لوگوں سے نیک معاملہ کرو گے تو ان کو بھی تم سے محبت پیدا ہوگی۔اور وہ تمہاری باتوں کو قبول کریں گے۔اس آیت سے ذاتی ترقی کے بھی دو گر معلوم ہوتے ہیں۔(۱) ایک تو یہ کہ نیکیوں کی عادت سے بدیوں کی عادت دور ہوتی جاتی ہے۔اس لئے جو شخص اپنے نفس کی اصلاح کرنا چاہے اسے چاہیےکہ جس بدی کی عادت ہو اس کے بالمقابل کی نیکیوں کی عادت ڈالے۔اس سے خودبخود اس کی وہ بدیاں جن کی اسے عادت ہو چھوٹنے لگ جائیں گے۔(۲) دوسرا گر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو گناہ انسان کر چکا ہو ان کے بد نتائج سے بچنے کا ذریعہ نیکی میں ترقی کرنا ہے۔جتنا جتنا وہ نیکی میں ترقی کرے گا اسی قدر وہ اپنے پچھلے گناہوں کے بدنتائج سے محفوظ ہوتا چلا جائے گا۔وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۱۶ اور( اس میں) صبر(و استقلال) سےکام لے۔کیونکہ اللہ (تعالیٰ) نیکوکاروں کے اجر کو ہرگز ضائع نہیں (کیا)کرتا۔تفسیر۔کامیابی کے لئے استقلال بھی شرط ہے یعنی استقلال شرط ہے۔جب اللہ تعالیٰ بداعمال کا نتیجہ نکالتا ہے تو نیکی کا نتیجہ کیوں نہ نکالے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ گھبرانا اور کام کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔