تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 373

کیا عجیب بات ہے کہ جس سورۃ نے رسول اللہ جیسے وسیع القلب پر اتنا اثر ڈالا کہ آپؐ بڑھاپے سے پہلے ہی بوڑھے ہو گئے وہ ہم پر کوئی اثر نہ کرے حالانکہ ہمیں آپؐ سے زیادہ ڈرنا چاہیےتھا تاکہ اس کام میں کامیاب ہوں جو ہمارے سامنے ہے۔اسلام صرف شخصی کامیابی کوکوئی اہمیت نہیں دیتا اصل بات یہ ہے کہ اسلام محض شخصی کامیابی کا قائل نہیں۔اگر ہم ساری قوم کو ہر رنگ میں نہیں بڑھاتے تو گویا ہم کامیاب ہی نہیں ہوئے۔لَاتَطْغَوْا میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔کہ قوم کی خبر نہ لینا ظلم ہے کیونکہ خبر نہ لینے سے بدی پھر عود کر آتی ہے۔ایک آدمی کا اعلیٰ مقام تک پہنچ جانا دنیا کے لئے چنداں مفید نہیں۔کیونکہ اس کے مرتے ہی وہی ظلمت پھیل جائے گی۔کامیابی یہ ہے کہ سب صحیح راستہ کو اختیار کرلیں تاکہ بدی کا سر کچلا جائے مگر افسوس ہے کہ باوجود اس تعلیم کے مسلمان نہ صرف دینی علوم میں پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ دنیاوی علوم اور ترقیات میں بھی بالکل بے خبر ہیں۔وہ بنی نوع انسان کی بہبودی میں بھی بہت کم حصہ لیتے ہیں جبکہ دوسری قوموں کے بہادر ہر شعبہ علمی میں ترقی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مجموعی کوششوں کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہے جس طرح کہ وہ انفرادی کوششوں کو دیکھتا ہے۔وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ اور تم ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم (کا شیوہ اختیار) کیا ہے نہ جھکنا۔ورنہ تمہیں (بھی جہنم کی) آگ( کی لپٹ) مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۰۰۱۱۴ پہنچے گی اور (اس وقت) اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست (مدد گار) نہ ہوں گے اور تمہیں (کسی طرف سے بھی) مدد نہیں ملے گی۔حلّ لُغَات۔رَکَنَ رَکَنَ اِلَیْہِ یَرْکُنُ وَرَکِنَ یَرْکَنُ رُکُوْنًا۔مَالَ اِلَیْہِ وَسَکَنَ اس کی طرف جھک گیا اور قرا ر پا گیا۔(اقرب) یہ لفظ باب نَصَرَ یَنْصُرُ اور عَلِمَ یَعْلَمُ سے آتا ہے یعنی رَکَنَ یَرْکُنُ اور رَکِنَ یَرْکَنُ مگر کبھی مَنَعَ یَمْنَعُ کے وزن پر بھی آتا ہے مگر یہ عام قاعدہ کے خلاف ہے کیونکہ جب تک دوسرا یا تیسرا حرف حروف حلقیہ سے نہ ہو تب تک اس وزن پر لفظ نہیں آیا کرتا۔اور اس لفظ میں نہ دوسرا حرف حروف حلقیہ میں سے