تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 349

وَالعَطَاءُ الْمُعْطٰی۔اور قرآن کریم میں جو بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ آیا ہے۔اس کے معنی ہیں مدد جو دی گئی۔یا بخشش جو کی گئی۔(اقرب) تفسیر۔لعنت کا مفہوم یعنی برے آدمی کے پیچھے لگ کر انسان اس دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی۔لعنت سے مراد اس جگہ گالی نہیں ہے بلکہ یہاں اس کے اصل معنی یعنی دوری مراد ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں بھی وہ خدا سے دور رہے اور اگلے جہان میں بھی دور ہی رہیں گے۔رفد سے مراد یہ بھی ممکن ہے کہ اِلرِّفْدُ سے مراد اس جگہ فرعون ہو۔یعنی انہوں نے جو خدا کے مقابلہ میں فرعون کا سہارا لیا تھا وہ کیسا برا ثابت ہوا۔جس کی وجہ سے یہ اب تک عذاب دیکھ رہے ہیں۔کیونکہ ان کا سہارا یعنی فرعون خود بھی جہنم میں گرا اور ان کو بھی اس نے جہنم میں لا ڈالا۔ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآىِٕمٌ وَّ یہ( تباہ شدہ) بستیوں کی خبروں میں سے (ایک حصہ )ہے ہم اسے تیرے پاس بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض حَصِيْدٌ۰۰۱۰۱ (بستیاں ابھی تک موجود) کھڑی ہیں اور بعض کٹی پڑی ہیں۔حلّ لُغَات۔حَصَدَ۔حَصَدَ یَحْصُدُ وَیَحْصِدُ حَصْدًا وحِصَادًا۔قَطَعَہٗ بِالْمِنْجَلِ درانتی سے کاٹا۔الْقَوْمَ بِالسَّیْفِ قَتَلَہُمْ۔تلوار سے قتل کیا۔اَلرَّجُلُ مَاتَ۔جب لازم استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں مر گیا۔(اقرب) تفسیر۔قری سے مراد اس جگہ پر اَلْقُرٰی سے دو چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔قَائِمٌ وَ حَصِیْدٌ کے معنی (۱)أَھْلُ الْقُرٰی یعنی بستیوں میں رہنے والے جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے۔وَاسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا (یوسف :۸۳) اس بستی والوں سے پوچھ لے۔اس صورت میں قَائِمٌ سے مراد وہ قومیں ہوں گی جن کی نسلیں باقی رہ گئی ہیں۔اور حصید سے مراد وہ قومیں جن کی نسلیں بھی اب بالکل یا قریباً نابود ہوگئی ہیں۔(۲) خود بستیاں اور اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ بعض شہروں کے نشان ابھی تک موجود