تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 312
الرَّجُلَ لَمْ یَعْرِفْہُ اسے نہ پہچانا۔(اقرب) اَوْجَسَ اِیْـجَاسًا اَحَسَّ وَاضْمَرَ۔محسوس کیا۔اور اپنے دل میں پوشیدہ رکھا۔(اقرب) اَلْـخِیْفَۃُ مَصْدَرُ خَافَ۔خَافَ کا مصدر ہے۔جس کے معنی ہیں اَلْفَزَعُ گھبراہٹ اَلْـحَذَرُ۔احتیاط کی بات۔ضِدُّ الْاَمْنِ۔امن کے خلاف حالت یعنی خطرہ۔ڈر۔(اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم کو کس بات کا خوف ہوا تھا یہ مطلب نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان لوگوں سے ڈر گئے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے دل میں یہ خوف پیدا ہو اکہ شائد کوئی امر مہمان نوازی کے خلاف ہو گیا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ نہیں کھاتے۔مگر انہوں نے اس خوف کا اظہار نہ کیا کیونکہ مہمان کو یہ کہنا کہ شاید مہمان نوازی میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہے اس سے مہمان کی شرافت پر حرف آتا ہے کیونکہ اس سے اشارہ ٹپکتا ہے کہ وہ لالچی یا حریص ہے۔حضرت ابراہیم نے کس بات کو نہیں سمجھا اور یہ جو فرمایا کہ انہیں پہچانا نہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ پہلے تو حضرت ابراہیم ان کو معمولی مسافر سمجھتے تھے لیکن جب دیکھا کہ یہ کھانا نہیں کھاتے تو خیال کیا کہ غالباً میں نے ان کے یہاں آنے کے مقصد کو نہیں سمجھا۔کیونکہ اگر عام مسافر ہوتے تو مہمان نوازی کو قبول کرتے کہ ان بیابانی علاقوں میں مسافر بلامہمان نوازی کے گزارہ ہی نہیں کرسکتے۔ان لوگوں نے بھی حضرت ابراہیم کے چہرہ سے پہچان لیا کہ یہ حیران ہیں کہ کیا مہمان نوازی میں کوئی نقص ہو گیا ہے۔یا ان لوگوں کے یہاں آنے کا کوئی اور مقصد ہے اس لئے انہوں نے تسلی دینے کے لئے کہہ دیا کہ ہم آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ ہم ایک عذاب کی خبر لے جارہے ہیں اس وجہ سے کھانا نہیں کھا سکتے۔بشارت لانے والوں کے انسان ہونے پر ایک اور دلیل اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فرشتے نہ تھے کیونکہ اگر فرشتے ہوتے تو یہ نہ کہتے کہ ہم چونکہ لوطؑ کی قوم کی طرف جارہے ہیں اس لئے کھانا نہیں کھا سکتے۔بلکہ یہ کہتے کہ ہم تو فرشتے ہیں کبھی کھانا کھایا ہی نہیں کرتے۔