تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 311

یہ نہیں پوچھا کہ آپ لوگ کھانا کھا کر آئے ہیں یا نہیں۔یا ابھی کھانا کھائیں گے یا ٹھہر کر۔مہمان نوازی اسلام کے اصول میں سے ہے مگر افسوس کہ دوسری قوموں کے اثرات کے نیچے مسلمان بھی اب اس فرض سے غافل ہوتے جاتے ہیں۔حالانکہ ان کے نبی کی سنت ان کے لئے اسوۂ حسنہ کے طور پر موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں تو سبھی خوبیاں موجود تھیں مگر وہ باتیں جو آپ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ کو خاص طور پر محسوس ہوئیں ان میںسے ایک آپ کی مہمان نوازی کی صفت بھی تھی۔چنانچہ جب پہلی وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور آپ گھبرا کر گھر تشریف لائے۔اور حضرت خدیجہؓ سے نزول وحی کا ذکر گھبراہٹ میں کیا۔تو انہوں نے آپ کو ان الفاظ میں تسلی دی۔کلا واللہ لَایُخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔(صحیح بخاری کتاب بدءالوحی باب کیف کان بدء الوحی) یعنی ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی قسم ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز کبھی رسوا نہ ہونے دے گا۔کیونکہ آپ رشتہ داری کے تعلقات کا ہمیشہ پاس رکھتے ہیں لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں دنیا سے اٹھ چکے ہوئے اخلاق حمیدہ کو ازسر نو عدم سے وجود میں لاتے ہیں۔مہمان نوازی کرتے ہیں۔اور حق کے خلاف پیش آمدہ حوادث کا مقابلہ کرتے اور ستم رسیدوں کی حمایت کرتے ہیں۔کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ مہمان نوازی اسراف میں داخل ہے بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسراف سے کام لیا۔کہ چند آدمیوں کے لئے بچھڑا ذبح کر دیا۔لیکن یہ اسراف نہیں وہ جنگل میں رہتے تھے اور اس جگہ نہ قصاب تھا نہ پرچون کا دوکاندار کہ بازار سے سودا خرید کر کھانا تیار کرتے۔وہ جانور پالتے تھے پس ان کی مہمان نوازی یہی ہوسکتی تھی کہ دنبہ یا بچھڑا جو اس وقت پاس ہو ذبح کرکے مہمانوں کے لئے تیار کر دیں۔فَلَمَّا رَاٰۤ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ پس جب اس نے ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس( کھانے) تک نہیں پہنچتے تو اس نے( سمجھا) کہ میں نے انہیں نہیں پہچانا اور مِنْهُمْ خِيْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ۰۰۷۱ ان (کے اس رکنے کی وجہ) سے خطرہ محسوس کیا (اس پر) انہوں نے کہا (کہ) تو خوف نہ کر ہمیں (تو) لوط کی قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔حلّ لغات۔نَکِرَنَکِرَ الْاَمْرَ یَنْکَرُ نَکَرًا ونُکْرًا وَنُکُوْرًا ونَکِیْرًا۔جَھِلَہٗ اس سے بے خبر رہا۔