تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 304

ہیں۔اور ثمود کا نام ان کے جغرافیوں میں تمودینی (THAMUDENI) آتا ہے۔اور حجر کے پاس وہ ایک جگہ کا ذکر کرتے ہیں جسے عرب ان کے بیان کے مطابق فج الناقہ کہتے تھے۔بتلیموس جو ۱۴۰ سال قبل مسیح ہوا ہے وہ لکھتا ہے کہ حجر کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام (BADANATA) ہے(العرب قبل الاسلام صفحہ ۶۴)۔فتوح الشام کا مصنف ابواسماعیل لکھتا ہے اِنَّ ثَمُوْدَاَمْلَأُ الْاَرْضَ بَیْنَ بُصْرٰی وَعَدَنْ فَلَعَلَّھَا کَانَتْ فِی طَرِیْقِ ھِجْرَتِہَا نَحْوَ الشَّمَالِ (العرب قبل الاسلام صفحہ ۶۵)کہ ثمود قوم بصریٰ (جو شام کا ایک شہر ہے) سے لے کر عدن تک پھیلی ہوئی تھی۔اور وہیں ان کی حکومت تھی۔شاید کہ وہ اس وقت جنوب سے شمال کی طرف ہجرت کررہے تھے۔یعنی حمیر اور سباء کی طاقت کے زمانہ میں جب ان کو ہجرت کرنی پڑی تو اس وقت ایسا ہوا۔ان دونوں قبیلوں کی حکومت نے یمن میں طاقت پکڑی تھی اور ثمود کی حکومت احقاف کے جنوب میں تھی۔انہوں نے جب ان کو نکالا تو یہ اوپر کی طرف نکلنے شروع ہوئے۔پہلے حجاز پھر تہامہ اور پھر حجر میں چلے گئے۔تمدنِ عرب والا کہتا ہے کہ وَلَایَخْرُجُ الْحُکْمُ فِی ذٰلِکَ مِنَ التَّخْمِیْنِ یعنی یہ قیاسی بات ہے۔(العرب قبل الاسلام صفحہ ۶۵) قوم ثمود جنوب سے ہجرت کرکے شمال کی طرف آئی تھی درحقیقت عربوں کا خیال ہے کہ ثمود بھی عاد کی ایک شاخ ہے۔اور انہی کی طرح یہ یمن میں رہتی تھی۔جب حمیر کی حکومت ہوئی تو انہوں نے ان کو حجاز کی طرف نکال دیا۔لیکن اس کی تصدیق اب تک کسی دلیل سے نہیں ہوئی۔کیونکہ اس قوم کے آثار اب تک جنوب میں نہیں ملے۔حجر کو پرانے زمانہ سے مدائن صالح بھی کہتے ہیں۔اور اس کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے زمانہ سے پہلے یہ نبطیوں کے ماتحت آچکا تھا۔جنہیں انبات بھی کہتے ہیں۔یہ لوگ بطرا کے رہنے والے تھے۔جسے یونانی لوگ پیٹرا کہتے ہیں۔چنانچہ اس جگہ کئی کتبے نبطی زبان کے ملے ہیں لیکن ان نبطی کتبوں کے ساتھ ساتھ بعض کتبے یمنی زبان میں بھی ملے ہیں۔ان کتبوں کو مستشرقین کا گروہ ثمودیہ کے نام سے موسوم کرتا ہے۔یعنی ثمود قوم کے کتبے۔اس تحقیق سے عرب جغرافیہ نویسوں کے اس خیال کی تائید ہوتی ہے کہ ثمود قوم جنوب سے ہجرت کرکے شمال کی طرف آئی تھی کیونکہ اگر وہ جنوب سے نہ آتی تو ان کی زبان یمنی زبان سے ملتی جلتی نہ ہوتی۔قوم ثمود قوم عاد کے معاً بعد ہوئی حجر جو اس قوم کا دارالحکومت معلوم ہوتا ہے مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان میں ہے اور اس وادی کو جس میں حجر واقع ہے وادی قریٰ کہتے ہیں۔اس علاقہ میں اس قوم کا زور تھا۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ کہ ثمود نے وادی قریٰ میں پہاڑ کاٹ کاٹ کر مکان بنائے تھے۔(الفجر:۱۰) قرآن کریم میں اس قوم کا زمانہ عاد کے معاً بعد بتایا ہے۔کیونکہ فرماتا ہے۔وَاذْكُرُوا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ