تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 291

کہ اگر وہ نبی کے پیغام کو رد کرتے ہیں تو اس سے اس نبی کو نقصان پہنچاتے ہیں حالانکہ پیغامبر کو پیغام کے رد ہونے سے کیا نقصان ہوسکتا ہے؟ نقصان ہوگا تو یا پیغام بھیجنے والے کا ہوگا یا اس کا جس کی طرف پیغام بھیجا گیا ہو۔پس حضرت ہودؑ فرماتے ہیں کہ میں تو پیغامبر ہوں مجھے تو نقصان اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ میں پیغام حق نہ پہنچاتا اور اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا۔سو اس سے میں محفوظ ہوں۔میں نے پیغام پوری طرح پہنچا دیا ہے۔اس پیغام کو رد کرنے میں تمہارا ہی نقصان ہے اب اگر نقصان کا احتما ل ہوسکتا ہے تو پیغام بھیجنے والے کو یا جس کی طرف پیغام دیا گیا ہے اسے۔سو پیغام دینے والے کا یہ حال ہے کہ وہ تمہارا محتاج نہیں کہ اس کی بات رد ہوجانے کی وجہ سے اسے نقصان پہنچے۔اس کی بات تو خود تمہارے فائدہ کے لئے تھی۔اگر تم نہ مانو گے تو کوئی اور قوم اس بات کو مان کر ترقی کر جائے گی۔بہرحال اس کا پیغام ضائع نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جس بات کو وہ چاہتا ہے اس کی حفاظت بھی کیا کرتا ہے۔اب جس امر کا اس نے ارادہ کیا ہے اور جو تعلیم میری معرفت اس نے دی ہے اس کی بھی وہ ضرور حفاظت کرے گا۔اِنَّ رَبِّيْ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو بھی یونہی جانے نہیں دے گا۔وہ اس کے حضور میں محفوظ ہیں اور ضرور ان اعمال کے متعلق تم سے بازپرس ہوگی۔وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ اور جب ہمارا( عذاب کا) حکم آگیا تو (اس وقت) ہم نے ہود کو اور جو( لوگ) اس کے ساتھ (ہو کر) اس پر ایمان بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّيْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ۰۰۵۹ لائے تھے ان کو( اس عذاب سے) اپنی (خاص) رحمت کے ذریعہ سے نجات دی اور ایک سخت عذاب سے ہم نے انہیں بچالیا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی عام سنت یہ ہے کہ جب کوئی وبا یا تکلیف ملک میں آتی ہے تو اچھے برے سب ہی اس میں شریک ہوجاتے ہیں لیکن انبیاء کے زمانہ میں چونکہ عذابوں کا نزول اتمام حجت کے طور پر ہوتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت مومنوں کے لئے خاص جوش میں آجاتی ہے۔اور باوجود ایک ہی ملک اور ایک ہی جگہ میں رہنے کے وہ اکثر قسم کے عذابوں سے کلی طور پر یا جزوی طور پر محفوظ رہتے ہیں۔اسی کی طرف رَحْمَةٍ مِّنَّا کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ یہ ایک خاص اور اہم فضل تھا اور عام قانون قدرت کے ماتحت نہ تھا۔