تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 290

توجہ دلائی ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ اور تصرف ہے اور یہ کہ تم صرف اس کے فضل سے زندگی بسر کررہے ہو ورنہ تمہارے اعمال تو اس قابل نہیں کہ تم کو زندہ رکھا جاسکے۔جب میرا سہارا میرا اور تمہارا رب ہے تو تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو رَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ کہہ کر یہ بتلایا ہے کہ جس سے میرا تعلق ہے وہ تمہارا بھی مالک ہے اور میرا بھی مالک ہے۔پس جب میرا تعلق تمہارے مالک سے ہے تو پھر تم سے جو اس کے غلام ہو مجھے کیا ڈر ہوسکتا ہے۔کیونکہ جب آقا کسی کا دوست ہو جاتا ہے تو پھر غلاموں کی طاقت نہیں ہوتی کہ اپنے آقا کے دوست کو کوئی نقصان پہنچاسکیں۔اِنَّ رَبِّيْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ کے معنی اِنَّ رَبِّيْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍکہہ کر فرمایا کہ جو سیدھے راستے پر چلے اسی کو خدا مل سکتا ہے۔مشرک تو ادھر ادھر پھرتا رہتا ہے۔وہ اسے کہاں پاسکتا ہے۔دوسری بات یہ بتائی ہے کہ تم تو مجھے مارنا چاہتے ہو جیسا کہ لَا تُنْظِرُوْنِ میں اس کی طرف اشارہ تھا۔تو خدا تعالیٰ بھی سیدھے راستے پر میری طرف مدد کے لئے آرہا ہے۔یعنی قریب سے قریب راہ سے میری مدد کے لئے آرہا ہے۔سیدھے راستے سے مراد قریب کا راستہ ہی ہے۔کیونکہ سیدھا راستہ ہمیشہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَيْكُمْ١ؕ وَ پھر اگر تم (میری طرف سے) پیٹھ پھیر لو تو( اس میں میرا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) جو بات دے کر مجھے تمہاری طرف يَسْتَخْلِفُ رَبِّيْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ بھیجا گیاہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دی (ہوئی ہے)اور( اگر تم ایسا کرو گے تو) میرا رب تمہارے سوا کسی اور قوم کو رَبِّيْ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ۰۰۵۸ (پہلوں کا) جانشین بنادے گا اور تم اس کو کچھ (بھی) نقصان نہیں پہنچا سکو گے میرا رب یقیناً ہر چیز کا محافظ ہے۔حلّ لُغَات۔تَوَلّٰی تَوَلَّوْا اصل میں تَتَوَلَّوْا ہے اس کے شروع میں حرف ت کے مکرر آنے کی وجہ سے عربی کے قاعدہ کے مطابق ایک ت کو حذف کر دیا گیا ہے۔تَوَلّٰی کے معنی پیٹھ پھیرنے کے ہوتے ہیں۔تفسیر۔پیغام کے ردکیے جانے کا نقصان پیغامبر کونہیں پہنچتا نادان لوگ خیال کرتے ہیں