تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 257

تمام عیبوں اور نجاستوں سے پاک ہونے کی وجہ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ پر مہر صداقت ثبت ہوتی ہے۔وَ اُوْحِيَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ جو (لوگ) ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا تیری قوم میں سے (اب) کوئی (اور شخص تجھ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَۚۖ۰۰۳۷ پر) قطعاً ایمان نہیں لائے گا اس لئے جو (کچھ) وہ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے تو افسوس نہ کر۔حلّ لُغات۔اِبْتَأَسَ۔اِبْتَأَسَہٗکَرِھَہٗ۔ناپسند کیا۔حَزِنَ افسوس کیا۔لَاتَبْتَئِسْ لَاتَحْزَنْ وَلَاتَشْتَکِ۔یعنی لَاتَبْتَئِسْ کے معنی ہیں غم نہ کر۔اور شکایت نہ کر۔(اقرب) تفسیر۔حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے بددعا نہیں کی تھی اللہ تعالیٰ کے اس قول سے کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے سو لاچکے۔آئندہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کو جسے بددعا کہا جاتا ہے اگر بددعا ہی سمجھا جائے تو بھی وہ خدا کے حکم کے ماتحت تھی کیونکہ اس آیت کے آخر میں فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ الہام ہوا تھا اس وقت تک حضرت نوح ؑ اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس نہیں ہوئے تھے۔اور ان کی حالت پر غمگین تھے کہ اس وقت تک وہ ایمان کیوں نہیں لائے۔اب اگر یہ خیال کیا جائے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یعنی رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا (نوح :۲۷) بددعا تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس الہام سے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے پہلے کی تھی یا بعد کی۔اگر بعد کی تھی تو حضرت نوح علیہ السلام کی دعا بد دعا نہ رہی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے فیصلہ پر ایک قسم کا اظہار تسلیم تھا کیونکہ اگر خدا تعالیٰ لوگوں کی تباہی کا فیصلہ پہلے ہی کرچکا تھا تو حضرت نوح علیہ السلام کو بددعا کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ اور اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ دعا اس الہام سے پہلے کی ہے تو پھر بھی بات نہیں بنتی کیونکہ اگر حضرت نوح ؑ اس الہام سے پہلے ہی اپنی قوم کی ہلاکت اور تباہی کی دعا کررہے تھے تو اس آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ اب تیری قوم ایمان نہیں لائے گی۔لیکن تو اس مشیت الٰہی پر غم نہ کر جو شخص پہلے ہی قوم کی تباہی کی دعا کررہا تھا اس نے قوم کی تباہی کی خبر سن کر غم کیوں کرنا تھا وہ تو خوش ہوتا۔