تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 247

معنی ہوں گے کہ ہمارے نزدیک تو چند رذیلے لوگ تجھ پر ایمان لائے ہیں اور وہ بھی بغیر سوچے سمجھے۔ان کا ایمان اوپرا ایمان ہے۔اگر وہ بھی تیری تعلیم کی حقیقت پر غور کرتے تو ہرگز نہ مانتے۔گویا اوّل تو تیرے اتباع اَرَاذِلُنَا ہم میں سے عیب دار اور ادنیٰ لوگ ہیں اور پھر انہوں نے تیرے قبول کرنے میں غور و فکر اور سوچ بچار سے کام نہیں لیا۔اس رنگ میں انہوں نے حضرت نوح ؑ کی انتہائی تحقیر کی ہے۔تیسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ ان کی اتباع محض ظاہری ہے یعنی ان لوگوں نے بعض فوائد کے حصول کے لئے صرف ظاہر میں مانا ہے۔دل میں یہ بھی ایمان نہیں لائے۔گویا تین معنی ہوئے۔۱۔ہمارا پہلا یا ظاہری خیال تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے تجھے مانا ہے وہ اراذل ہیں۔۲۔ان لوگوں نے بھی بغیر فکر کے مانا ہے۔۳۔جن لوگوں نے مانا ہے انہوں نے صرف ظاہر میں مانا ہے حقیقت میں دل سے کسی نے نہیں مانا۔مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ۔یعنی ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کوئی باریک اور مخفی بات ہوگی جس کی وجہ سے خدا نے تمہیں یہ درجہ دے دیا ہے لیکن یہ تو بتاؤ کہ اگر سچ مچ ایسی خوبی تم میں تھی تو کیا اس کے نتیجہ میں تم کو کوئی خاص شان و شوکت نہیں ملنی چاہیےتھی کیونکہ جس کے اندر کوئی خاص قابلیت ہوتی ہے وہ اپنے ہمعصروں پر غالب آجاتا ہے۔مگر یہ بات بھی ہمیں نظر نہیں آتی۔پھر ان سب دلائل کے مجموعہ کا وہ آخری نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ تم جھوٹے ہو کیونکہ بلاوجہ اور بلاسبب اپنی برتری اور اپنے حق پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔آہ! یہ ایک قدیم دستور ہے کہ لوگ نبیوں کو اپنے بنائے ہوئے معیاروں پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ ان معیاروں پر پورے نہیں اترتے تو تسکین قلب کے ساتھ یہ خیال کرلیتے ہیں کہ انہوں نے ان کے دعویٰ کو غیرمتعصبانہ طور پر سوچ لیا اور اسے غلط پایا۔دنیا اس قدر ترقی کرچکی ہے اور اس قدر انبیاء گزر چکے ہیں لیکن اب بھی انسان خدائی کلام کو اور خدا کے فرستادوں کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ معیار پر پرکھنے کے لئے طیار نہیں بلکہ اپنے غلط خیالات کے مطابق ان کی سچائی کو دیکھنا چاہتا ہے لیکن کیا اس طرح ہدایت مل سکتی ہے۔ہرگز نہیں۔