تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 215

خدا کے کلام کے بعض حصوں کو چھپادے۔(مفردات) کَنْزٌ الْکَنْزُمَایُدَّخَرُ۔جس مال کو انسان جمع کرے۔اَلْمَالُ الْمَدْفُوْنُ فِی الْاَرْضِ۔زمین میں گاڑا ہوا مال۔اِسْمٌ لِلْمَالِ اِذَااُحْرِزَفِی وِعَاءٍ۔جب مال کسی حفاظت کی چیز میں رکھا ہوا ہو تو اسے بھی کَنْزٌ کہتے ہیں۔الذَّھَبَ سونا۔اَلْفِضَّۃُ۔چاندی۔مَایُحْرَزُفِیْہِ الْمَالُ۔جس چیز میں مال کو محفوظ کرکے رکھا جاوے یعنی مَخْزَن۔(اقرب) تفسیر۔لَعَلَّکَ تَارِکٌ تعریض کے طور پر فرمایا ہے قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ بعض جگہ سوال کا ذکر چھوڑ دیتا ہے صرف جواب دے دیتا ہے۔اور اسی سے سوال سمجھ میں آجاتا ہے۔اس آیت میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔گو جس سوال کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے اسے علیحدہ بیان نہیں کیا گیا۔لیکن آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌ کا وعدہ سن کر کفار نے اعتراض کیا کہ مومنوں کو تو مغفرۃ اور اجرکبیر پیچھے ملے گا پہلے تم جو سلسلہ کے بانی ہو اپنا حال تو دیکھو کہ نہ تمہارے پاس خزانہ ہے اور نہ کمزوریوں کو دور کرنے کے ظاہری مظہر فرشتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تعریضاً فرماتا ہے کہ اوہو! یہ بڑا بھاری اعتراض انہوں نے کیا ہے اس کے خوف کے مارے تو اب تو ضرور کلام الٰہی کا کچھ حصہ یعنی جس میں اسلام کی ترقیات کی پیشگوئیاں ہیں چھپا ڈالے گا۔مطلب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اس جگہ لَعَلَّ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ دشمن یہ طمع رکھتا ہے کہ اس کے ان اعتراضوں سے ڈر کر تو کلام الٰہی کو چھپانے لگے حالانکہ اس کی یہ طمع باطل ہے۔کیونکہ تو تو فقط نذیر ہے یعنی پیغامبر اور پیغامبر کا کام تو دیانت داری سے پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔اس کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ بعض حصہ کلام کو چھپادے۔اور بعض کو ظاہر کردے۔پھر تیرا دعویٰ خدائی کا نہیں ہے کہ دنیا کے خزانے تیرے قبضہ میں ہوں۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ جن مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ ان کو اجر کبیر ملے گا وہ بھی تو انسان ہی ہوں گے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تو ایک خاص وقت تک صبر کرنے کے بعد کی حالت کا ذکر ہے نہ کہ شروع سے ہی ایسا وعدہ تھا۔سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقیات کے ظاہری مظاہر کا مطالبہ بھی کفار تبھی کرسکتے تھے جب کہ وقت مقررہ آتا۔نہ کہ شروع سے ہی۔شروع سے طاقت کا ساتھ ہونا تو ذاتی اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے نہ کہ بندہ کو۔یہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌسے یہ بتایا ہے کہ آخر یہ سب کچھ ہوکر رہے گا۔تجھے مغفرت بھی ملے گی اور اجر کبیر بھی۔خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے جو تیرے کام کو پورا کریں گے اور اجر کبیر بھی