تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 214

غلطیوں کو معاف کرتا یا اس کی بشری کمزوریوں پر پردہ ڈالتا ہے اور چونکہ مومن نعمت کے حصول پر اتراتا نہیں بلکہ ان نعمتوں کو نیکی میں ترقی کرنے کا ذریعہ بناتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اسے اجر کبیر دے کر اپنے فضلوں میں زیادتی کرتا ہے۔فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ وَ ضَآىِٕقٌۢ بِهٖ پس (اب بزعم کفار) شاید تو اس (کلام) کا جو تجھ پر وحی کیا جاتا ہے کچھ حصہ (لوگوں کو پہنچانے کی بجائے) چھوڑ دینے صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ والا ہےاور تیرا سینہ اس (کلا م الٰہی) سے اس بنا پر تنگ ہو رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں (کہ) کیوں اس پر کوئی خزانہ نہیں اتارا مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌؕ۰۰۱۳ گیا یا اس کےساتھ کوئی فرشتہ آیا( حالانکہ) تو صرف (ہوشیار اور) آگاہ کرنے والا ہے اور اللہ (تعالیٰ) ہر بات کا کار ساز ہے۔ٍ حلّ لُغَات۔لَعَلَّ لَعَلَّ طَمَعٌ وَاِشْفَاقٌ کہ لَعَلَّ طمع اور خوف ہرد وکے لئے آتا ہے۔وَلَعَلَّ وَاِنْ کَانَ طَمَعًافَاِنَّ ذٰلِکَ یَقْتَضِیْ فِی کَلَامِھِمْ۔تَارَۃً طَمَعَ الْمُخَاطَبِ وَتَارَۃً طَمَعَ الْمُخَاطِبِ وَتَارَۃً طَمَعَ غَیْرِھِمَا فَقَوْلُہٗ تَعَالٰی فِیْمَا ذَکَرَ عَنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ فَذٰلِکَ طَمَعٌ مِنْہُمْ وَقَوْلُہٗ فِی فِرْعَوْنَ لَعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی فَاِطْمَاعُ مُوْسٰی مَعَ ھَارُوْنَ وَمَعْنَاہُ فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَیِّنًارَاجِیَیْنِ اَنْ یَّتَذَکَّرَ اَوْ یَخْشٰی وَقَوْلَہٗ تَعَالٰی فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَایُوْحٰی اِلَیْکَ أَیْ یَظُنُّ بِکَ النَّاسُ ذٰلِکَ۔اور جب یہ لفظ طمع کے معنوں میں ہو تو عربی زبان کے محاورہ میں اس کے کئی مفہوم ہوتے ہیں۔کبھی اس سے مخاطب کے دل کی طمع کا اظہار یا اس کے دل میں طمع کا پیدا کرنا مراد ہوتا ہے۔کبھی مخاطب یعنی بولنے والے کی طرف سے طمع مرادہوتی ہے۔اور کبھی ان دونوں کے سواء دوسروں کی طمع کا ذکر ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں جو فرعون کی قوم کا قول آتا ہے کہلَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ۔اس میں فرعون کی قوم نے اپنی طمع کا اظہار کیا ہے کہ کیا اچھا ہو کہ یہ جیت جائیں۔اور ہم ان کی اتباع کریں اور جو خدا تعالیٰ کا یہ قول فرعون کے بارہ میں آتا ہے کہلَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ اَوْیَخْشٰی۔اس میں موسیٰ اور ہارون کو جو مخاطب ہیں اللہ تعالیٰ نے طمع دلائی ہے کہ شاید فرعون ہدایت پا جائے۔اور یہ جو آیت ہےلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ۔اس میں دوسروں کی طمع کا ذکر ہے کہ دوسرے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید تو ان کے اعتراضوں سے ڈر کر