تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 201
کہ میں تمہیں خدا تعالیٰ سے ڈراتا ہوں بلکہ مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں تاکہ اپنے نفع کے پہلوؤں کو بھول نہ جاؤ اور نقصان کے پہلوؤں کو اختیار نہ کرلو۔بشیر کے معنی اسی طرح بَشِیْرٌ کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میں صرف تمہیں ہوشیار ہی نہیں کرتا بلکہ تمہاری ترقی کے سامان بھی ساتھ لایا ہوں۔وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا اور یہ کہ تم اپنے رب سے بخشش مانگو (اور) پھر اس کی طرف (سچا )رجوع کرو۔(تب )وہ تمہیں ایک مقررہ میعاد حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ يُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ تک اچھی طرح سےسامان عطاکرے گا۔اور نیز ہرایک فضیلت والے (شخص) کو اپنا فضل عطا کرے گا۔اور وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ۰۰۴ اگر تم پھر جاؤ گے۔تو میں یقیناً تم پرایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب (کے آنے) سے ڈرتاہوں۔حلّ لُغَات۔مَتَاعٌ الْمَتَاعُ کُلُّ مَا یُنْتَفَعُ بِہٖ مِنَ الْحَوَائِـجِ کَالطَّعَامِ وَالْبَزِوَاَثَاثِ الْبَیْتِ وَ الْاَدَوَاتِ وَالسِّلَعِ۔مَتَاعٌ عام ضروریات کی چیزوں کو کہتے ہیں جیسے خوراک، پوشاک، گھر کے استعمال کا سامان آلات اور اجناس۔وَقَالَ فِی الکُلِّیَّاتِ اَلْمَتاَعُ وَالْمُتْعَۃُ مَایُنْتَفَعُ بِہٖ اِنْتِفَاعًا قَلِیْلًا غَیْرُبَاقٍ بَلْ یَنْقَضِیْ عَنْ قَرِیْبٍ۔اور کلیات ابوالبقاء میں لکھا ہے کہ متاع یا متعہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض وقتی طور پر کچھ فائدہ پہنچانے والی ہو۔وَاَصْلُ الْمَتَاعِ مَایُتَبَلَّغُ بِہٖ مِنَ الزَّادِ۔اور اس کے اصل معنی زادراہ کے ہیں۔وَیَأْتِی الْمَتَاعُ اِسْمًا بِمَعْنَی التَّمْتِیْعِ۔اور یہ لفظ اسم مصدر کے طور پر تَمْتِیْع کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی سامانِ دنیا۔(اقرب) تفسیر۔استغفار کے معنی اور اس کی ضرورت پہلی آیت میں اس مقصد عظیم کی طرف توجہ دلائی تھی جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔لیکن چونکہ مقصد تک پہنچنے میں بعض دفعہ انسان کے راستہ میں روکیں حائل ہوجاتی ہیں اس لئے فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یگانگت پیدا کرنا چاہتے ہو اور تمہارے رستہ میں ایسی رکاوٹیں ہیں