تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 200

يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ(العنکبوت :۸)۔یعنی جو شخص کسی قسم کی جدوجہد روحانی ترقیات کے لئے کرتا ہے وہ خود اپنے نفس کے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات اور ان کے ہر قسم کے افعال سے غنی ہوتا ہے۔اسی طرح سورۃ حجرات میں فرماتا ہے۔قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ۔(الحجرات :۱۸) یعنی مذہب اسلام کو قبول کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان نہیں۔نہ خدا تعالیٰ پر ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے وہ طریق بتایا جو لوگوں کی ترقی اور کامیابی کا موجب ہے۔پس عبادت قرآن کریم کے رو سے خود بندہ کے فائدہ کے لئے ہے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ عبادت چند ظاہری حرکات کا نام نہیں ہے بلکہ ان تمام ظاہری اور باطنی کوششوں کا نام ہے جو انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنادیتی ہیں۔کیونکہ عبد کے معنی اصل میں کسی کے نقش کے قبول کرنے اور پورے طور پر اس کے منشاء کے ماتحت چلنے کے ہوتے ہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت چلے گا الٰہی صفات کو اپنے اندر پیدا کرلے گا اور ترقی کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرلے گا تو یہ امر خود اس کے لئے نفع رساں ہوگا۔نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے۔بائیبل میں جو یہ لکھا ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا۔(پیدائش باب۱) تو درحقیقت اس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرسکے۔ورنہ اللہ تعالیٰ تمام شکلوں سے پاک ہے۔پس عبادت پر زور دینے کے محض یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو۔کیونکہ کامل تصویر تبھی کھینچی جاسکتی ہے جب اس وجود کا نقشہ ذہن میں موجود ہو۔جس کی تصویر لینی ہو۔اور عبادت اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنے اور ان کا نقش اپنے ذہن پر جمانے کا ہی نام ہے جس میں انسان کا فائدہ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا۔حدیث میں اس حقیقت کی طرف اشارہ اس مضمون کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ مَاالْاِحْسَانُ۔کامل عبادت کیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ اَنْ تَعْبُدَاللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ (بخاری کتاب الایمان باب سوال النبی ؐ عن الایمان والاسلام والاحسان والعلم الساعۃ وبیان النبی)۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا معنوی طور پر وہ اپنی تمام صفات کے ساتھ تیرے سامنے کھڑا ہو جائے۔انذار کے معنی انذار کے معنی اس قسم کا ڈرانا نہیں ہوتا جیسے سانپوں یا شیروں سے ڈرایا جاتا ہے۔اس قسم کے ڈرانے کو تَرْہِیْب یا تَخْوِیف کہتے ہیں۔انذار لغت میں ہوشیار کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔پس مطلب یہ نہیں