تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 189

کے معنی موت کے ہیں اور تَوَفَّی کے معنی موت وارد کرنے اور جان نکال لینے کے ہیں۔اقرب الموارد میں ہے تَوَفّی اللہُ زَیْدً اقَبَضَ رُوْحَہٗ اللہ تعالیٰ نے زید کی روح قبض کرلی یا جان نکال لی۔تُوُفّیَ فُلَانٌ مَجْہُوْلًا قُبِضَتْ رُوْحُہٗ وَمَاتَ۔تُوَفّی بصیغہ مجہول کے معنی ہیں اس کی جان نکال لی گئی اور وہ مر گیا۔فَاللہُ الْمُتَوَفِّی وَالْعَبْدُ الْمُتَوَفّٰی۔غرض اللہ تعالیٰ مُتَوَفِّی یعنی وفات دینے والا ہوتا ہے اور انسان مُتَوَفّٰی یعنی وفات پانے والا۔اور قاموس میں ہے اَوْفٰی فُلَانًا حَقَّہٗ وَوَفَّاہُ وَافَاہُ فَاسْتَوْفَاہُ وَتَوَفَّاہُ وَالْوَفَاۃُ الْمَوْتُ وَتَوَفَّاہُ اللہُ قَبَضَ رُوْحَہٗ کہ جو لفظ تَوَفّی اِسْتِیْفَاء یعنی پورا پورا لینے کے معنی دیتا ہے وہ اِیْفَاءٌ تَوْفِیَۃٌ اور مُوَافَاۃٌ کا مطاوع اور لفظ وَفَّی سے ماخوذ ہوتا ہے۔اور اس کا مفعول کوئی حق یا کوئی مالیت ہوتی ہے۔اور جس لفظ تَوَفّی کے معنی قبض روح کے ہوتے ہیں وہ لفظ وَفَاۃٌ سے ماخوذ ہوتا ہے۔جس کے معنی موت کے ہیں اور تَوَفَّاہُ اللہُ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی۔یعنی جان نکال لی۔اور کلّیات ابوالبقاء میں ہے وَالْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاۃِ یعنی یہ فعل لفظ وَفَاۃٌ سے ماخوذ ہے۔جس کے معنی موت کے ہیں۔تفسیر۔لفظ توفی کے معنی جب اس کا فاعل اللہ مفعول ذی روح ہو تَوَفّی کا لفظ جبکہ اس کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور ذی روح مفعول ہو قبض روح کے سواء اور کسی معنی میں نہیں آتا۔اس کی ایک مثال بھی لغت اشعار عرب اور قرآن مجید سے پیش نہیں کی جاسکتی۔جب بھی تَوَفّی اللہُ زَیْدًا آئے گا اس کے معنی قَبَض رُوْحَہٗ کے ہوں گے۔کسی شاعر کسی خطیب کسی مصنف نے اس کو دوسرے معنوں میں استعمال ہی نہیں کیا۔جب ذی روح مفعول ہو تو اس کے معنی پورا پورا دینا نہیں ہوتے پورا حق دینا حق ہی کے متعلق آتا ہے۔لفظ مومن کے معنی مومن اس کو کہتے ہیں جس کے ہاتھ سے لوگ امن میں آجائیں اور وہ دنیا کو امن دینے والا ہو۔اور اس کو بھی مومن کہتے ہیں کہ جو خود امن میں آجاتا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہوجاتا ہے اور اس کے بعد وہ اس کی سزا سے بچ جاتا ہے۔یہ دین شک پیدا کرنے والا نہیں ہوسکتا اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہمیں تیرے دین سے شک پیدا ہورہے ہیں حالانکہ میرا عمل تو اسی مذہب پر ہے اور میں شرک سے کلی طور پر بیزار ہوں اور مجھے تو اس دین سے یقین اور ایمان ہی پیدا ہورہا ہے۔نہ معلوم تمہیں شک کس طرح سے پیدا ہوتے ہیں۔تمہاری ہلاکت کا وقت قریب آرہا ہے یَتَوَفَّاکُمْ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ جس خدا پر میرا ایمان ہے وہ تمہیں ہلاک کرنے والا ہے اور اس طرح تم پر اپنی حجت تمام کرنے والا ہے۔