تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 188

بھی سنو گے تو بھی میں تمہارا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔اور کہتا چلا جاؤں گا۔ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَيْنَا پھر( جب وہ عذاب آجائےگا تو اس وقت) ہم اپنے رسولوں کو اور جو( لوگ ان پر) ایمان لائے ہیں ان کو بچا لیں نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۴ گےاسی طرح ہمارے ذمہ( خود اپنا قائم کیا ہو ا)ایک حق ہے۔ہم مومنوں کو (ضرور) بچا لیا کرتے ہیں۔تفسیر۔رُسُلَنَا بصیغہ جمع لانے کی وجہ یہاں ذکر تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا مگر فرمایا ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو نجات دیں گے۔جمع کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا ہے کہ (۱) ہر نبی سارے نبیوں کا قائم مقام ہوتا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجات دینا گویا سب نبیوں کو نجات دینا تھا۔کیونکہ اگر آپ تباہ ہوتے (نعوذباللہ) تو سب نبیوں کی صداقت مشتبہ ہوجاتی (۲) اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس امت میں آئندہ بھی رسول آئیں گے۔اور وہ ہوں گے بھی امتی۔کیونکہ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ میں رسولوں کی جگہ مومنون کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ ایک لحاظ سے رسول ہوں گے اور دوسرے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن اور امتی۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَاۤ تو کہہ( کہ) اے لوگو اگر تم میرے دین کے متعلق کسی( قسم کے) شک (و شبہ) میں ہو تو (سن لو کہ) اللہ (تعالیٰ) اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ کے سوا جن (معبودوں) کی تم پرستش کرتے ہو میں ان کی پر ستش نہیں کرتا بلکہ میں اللہ( تعالیٰ) کی پرستش کرتا الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۵ ہوں۔جوتم کو وفات دے گا اور مجھےحکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے بنوں۔حلّ لُغَات۔تَوَفّٰی یَتَوَفّٰی کا مادہ وَفٰی اور ماخذ وَفَاۃٌ ہے اور یہ باب تفعّل سے فعل مضارع ہے۔وفات