تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 155
کامل تدبیر کے پانچ طریق اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کامل تدبیر کس طرح کی جاتی ہے۔اور اس کے لئے پانچ طریق بتائے۔(۱) مشورہ کرکے ایک رائے پر جمع ہوجانا چاہیے۔جب تک کوئی قوم ایسا نہ کرے گی وہ کبھی جیت نہیں سکتی۔(۲) اپنے ہم خیال لوگوں کو ایک نظام کے ماتحت لے آنا چاہیے۔(۳) اس رائے کے پورا کرنے کے لئے ایک تفصیلی تجویز سوچ لینی چاہیے۔یا دوسرے لفظوں میں تفصیلی نقشہ تیار کرلینا چاہیے۔(۴) بغیر انتشار طاقت کے ایک ہی وقت میں سب طاقت کو خرچ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ ساری قوم کا زور ایک ہی وقت میں دشمن پر پڑے۔(۵) حملہ کرنے کے بعد دشمن کو سانس لینے کا بھی موقع نہ دینا چاہیے کیونکہ اس صورت میں دشمن پھر طاقت پیدا کرلے گا۔پہلا حملہ ختم نہ ہونے پائے کہ دوسرا شروع ہوجائے۔تمام انبیاء اسی طریق پر کاربند ہوتے چلے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی یہی طریق تھا۔آپ ایک اشتہار نکالتے ابھی اس کا چرچا جاری ہوتا کہ دوسرا اور نکال دیتے تھے۔غرض کامیابی کے لئے یہ پانچ طریق ضروری ہوتے ہیں۔حضرت نوحؑ اپنی قوم کو خود ان طریقوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور فرماتے ہیں تم یہ پانچوں طریق استعمال کرلو۔مگر پھر بھی کامیاب نہ ہوگے۔کیونکہ ایک چھٹی چیز جس کے بغیر یہ تمام تدبیریں ناکام رہ جاتی ہیں یعنی توکل علی اللہ وہ تمہارے پاس نہیں ہے بلکہ وہ میرے پاس ہے۔اس وجہ سے خدا تعالیٰ کی مدد مجھے حاصل ہے۔پس تم تمام کوششیں کرلو۔غالب میں ہی رہوں گا۔انبیاء کا یقین اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر انبیاء ؑ کو اپنی صداقت اور خدا تعالیٰ کے وعدوں پر کیسا یقین ہوتا ہے۔نہ صرف یہ کہ وہ مخالفین کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ انہیں اور بھی غیرت دلاتے ہیں۔اور باوجود اس کے مطمئن ہوتے ہیں کہ آخر ہم ہی جیت کر رہیں گے۔اور آخر ویسا ہی ہوتا ہے۔دوسرے معجزات کو نظرانداز کرکے چشم حقیقت بین کے لئے یہی ایک معجزہ ان کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے ثبوت میں کافی ہوتا ہے مگر افسوس کہ اندھی دنیا دیکھتی نہیں۔