تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 121
بھی دیتا ہے۔یہ آیت وعیدی پیشگوئیاں کے ٹل جانے کے ثبوت میں بنیاد کے طور پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وعیدی پیشگوئیوں کے ٹلنے کے ثبوت میں اس آیت کو سب سے مقدم رکھا کرتے تھے۔اور باقی آیات کو اس کی تائید میں پیش کیا کرتے تھے۔اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔(۱) یہ کہ پیشگوئیاں شرطی بھی ہوتی ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا ہم ایسا کریں گے یا ایسا (۲) یہ کہ بعض پیشگوئیاں ٹل بھی جاتی ہیں کیونکہ فرماتا ہے کہ اگر بعض ہم تجھ کو دکھلائیں گے تو تو دیکھ لے گا۔بعض کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ اس جگہ ان پیشگوئیوں کا ذکر ہے جن کے پورا ہونے کا وقت آپ کی زندگی میں رکھا گیا تھا۔کیونکہ جن پیشگوئیوں کا وقت آپ کی وفات کے بعد تھا وہ تو آپ کے زمانہ میں پوری ہی نہ ہونی تھیں۔اس سے یہ امکان نکلتا ہے کہ کوئی بھی عذاب کی پیشگوئی تیرے وقت میں پوری نہ ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں اور عذاب کی ضرورت ہی نہ رہے۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے ورنہ سارے لوگ مانا نہیں کرتے۔علاوہ ازیں اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں کے لئے کوئی خاص وقت مقرر کرنا شرط نہیں کیونکہ اس جگہ وقت بہت وسیع ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک چلا گیا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت میں یہ بھی ظاہر کر دیا گیا ہے کہ ٹلنے والی پیشگوئی وہ ہوتی ہے جو جزئی ہو۔اصولی پیشگوئی نہیں ٹلا کرتی۔مثلاً کوئی ہم سے کہے کہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلة:۲۲) والی پیشگوئی ٹل جائے گی تو ہم کہیں گے کہ نہیںکیونکہ قرآن کریم نے نَعِدُھُمْ کی شرط لگائی ہے یعنی جو ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں پس اس سے مراد صرف وہی وعید ہوسکتا ہے جو کسی خاص نبی کی قوم سے کیا گیا ہو۔نہ وہ جو سب رسولوں کے ساتھ مجموعی طور پر ہو۔اور لَاَغْلِبَنَّ والے وعدہ میں سب انبیاء شریک ہیں کسی خاص نبی سے یہ وعدہ مخصوص نہیں ہے۔غرض تفصیلی پیشگوئی ٹل سکتی ہے اصولی وعدے یا وعید نہیں ٹلا کرتے۔اس آیت سے آج کل کے بعض نئے مدعیوں کی تردید ہوجاتی ہے۔جو پیشگوئی کرتے ہیں کہ ہم غالب آئیں گے۔لیکن جب غلبہ نہیں ہوتا تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ پیش گوئی ٹل گئی ہے۔