تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 1

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ١ؐؕ اور ہر ایک (شخص) کا ایک (نہ ایک) مطمح نظر ہوتا ہے جسے وہ (اپنے آپ پر) مسلط کر لیتا ہے۔سو (تمہارا مطمح نظر اَيْنَ مَاتَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یہ ہو کہ) تم نیکیوں (کے حصول) میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔تم جہاں کہیں (بھی) ہو گے اللہ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍقَدِيْرٌ۰۰۱۴۹ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا (پورا) قادرہے۔حل لغات۔وِجْھَۃٌ وِجْھَۃٌکے تین معنے ہیں (۱)جہت (۲) مِنْہَاجٌ یعنی راستہ اور طریقہ (۳) وہ چیز جس کی طرف انسان توجہ کرے یعنی مقصود۔اِسْتَبِقُوْا اِسْتَبَقَ سے جمع کا صیغہ ہے اور اِسْتَبَقَ کے معنے عربی زبان میں اَرَادَ کُلُّ وَاحِدٍ اَنْ یَّسْتَبِقَ الْاٰخَرَ کے ہیں۔یعنی ہر ایک نے دوسروں سے آگے نکل جانے کی کوشش کی۔تفسیر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی مطمحِ نظر ہوتاہے جو ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے اور اسے پورا کرنے کے لئے وہ اپنی تمام مساعی صرف کر دیتا ہے۔کبھی وہ تجارت میں ترقی اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔کبھی زراعت میں ترقی اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔کبھی سیاسی لحاظ سے اقتدار کا حصول وہ اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔کبھی سائینس میں ترقی کو اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔کبھی بیوائوں اور یتامیٰ اور مساکین کی خدمت کو وہ اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔کبھی دین اور مذہب کی اشاعت کو اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے۔غرض ہر شخص کسی نہ کسی مطمح نظر کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ ہر قسم کی قربانیوں اور جدوجہد سے کام لیتا ہے۔نکمّے سے نکمّے انسان کو بھی دیکھ لو۔تو معلوم ہوگا کہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔کیونکہ فراغت انسانی فطرت میں داخل ہی نہیں۔یہی حال اقوام کا ہے ہرقوم نے اپنا کوئی مقصد قرار دیا ہوا ہوتا ہے۔اور وہ اس کے لئے سب کچھ قربان کر دیتی ہے۔پس جب ہر انسان دنیا میں کچھ نہ کچھ ضرور کرتا ہے اور کسی نہ کسی امر کے متعلق اُسے شغف ہوتا ہے تو تمہارا بھی ایک مطمحِ نظر ہونا چاہیے۔یہ نہ ہو کہ تشتّتِ قومی کے ماتحت کوئی کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھ لے اور کوئی کسی مقصد کو۔مُوَ لِّیْھَا میں مفعول کو حذف کر دیا گیا ہے اور اصل عبارت اس طرح ہے کہ وَ لِكُلٍّ