تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 501
عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؔ۰۰۲۷۵ اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے متعلق بعض اور امور بیان کئے ہیں۔فرماتا ہے۔ہمارے مومن بندے صدقہ کے لئے کسی خاص وقت یا خاص دن کو مخصوص نہیں کرتے بلکہ وہ رات کے وقت بھی صدقہ کرتے ہیں اور دن کے وقت بھی صدقہ کرتے ہیں۔او رمخفی طور پر بھی صدقہ کرتے ہیں اور ظاہرطور پر بھی صدقہ کرتے ہیں۔یہ لَیل اور نَہَار اور سِرًّا وَ عَلَانِیَۃً کا ذکر اس لئے فرمایا کہ شریعت اسلامی کے نزدیک مومن پر کوئی وقت ایسا نہیں آنا چاہیے جبکہ وہ نیکیوں میں حصہ نہ لے رہا ہو۔چنانچہ نمازوں کی دن اور رات میں تقسیم اور روزوں اور حج کا قمری مہینہ میں رکھنا۔یہ سب اسی غرض کے لئے ہے۔پس دن اور رات میں سرا ًاو رعَلَانیۃً صدقہ دینے کا ذکر کر کے بتایا کہ ہمارے مومن بندے صدقہ بھی مختلف اوقات میں دیتے ہیں تاکہ کوئی وقت صدقہ سے خالی نہ رہے اور قمری مہینوں کے لحاظ سے ان کی یہ نیکی سارے سال میں چکر کھاتی رہے اور اس کا کوئی حصہ بھی اس سے خالی نہ رہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے لیل کا ذکر پہلے کیا ہے اور نہار کا بعد میں اور اسی ترتیب سے سِرًّا کو پہلے رکھا ہے اور علانیۃً کو پیچھے یا یوں کہنا چاہیے کہ لیل کے مقابل میں سِرًّا رکھا ہے اور نہار کے مقابلہ میں علانیۃً۔اس ترتیب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مومنوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ بعض دفعہ رات کو پوشیدہ طور پر صدقہ دیتے ہیں اور اس طرح دیتے ہیں کہ لینے والے کو بھی پتہ نہیں لگتا کہ کس نے دیاہے تاکہ لینے والے کو شرمندگی محسوس نہ ہو اور ان کے اپنے قلب میں بھی تکبر اور ریا کا جذبہ پیدا نہ ہو۔پھر وہ دن کو بھی صدقہ دیتے ہیں اور ظاہر طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی غرباء کی امداد کی تحریک ہو اور قوم ترقی کرے۔ورنہ اپنی ذات کے لئے انہیں کسی شہرت کی تمنّا نہیں ہوتی۔غرض لیل کی سِرًّا میں تفسیرکی گئی ہے اور نھار کی علانیۃً میں اور بتایا گیا ہے کہ ہمارے مومن بندے وقتوں کا بھی لحاظ رکھتے ہیں۔اور حالتوں کا بھی لحاظ رکھتے ہیں۔اسی طرح لیل و نھار سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ دکھ اورسکھ دونوں حالتوں میں وہ صدقہ دیتے ہیں۔درحقیقت اگر غور سے کام لیا جائے تو اسلامی شریعت میں خدا تعالیٰ نے دو قسم کے صدقات رکھے ہیں۔اول زکوٰۃ جو حکومت وصول کرتی ہے۔یہ نظام اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ غرباء کے لئے امداد کی ایک یقینی صورت پیدا ہو جائے۔دومؔ صدقہ تاکہ اس کے ذریعہ مخلص اور غیرمخلص کا پتہ چلتا رہے جو شخص مخلص ہو گا وہ تو اپنے طور پر بھی صدقہ دے گا۔لیکن زکوٰۃ چونکہ گورنمنٹ کی معرفت وصول کی جاتی