تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 468

انعام پایا۔حضرت عثمانؓ نے بھی جو کچھ خرچ کیا اس سے لاکھوں گنا زیادہ انہوں نے اسی دنیا میں پالیا۔اسی طرح ہم فرداً فرداً صحابہؓ کا حال دیکھتے ہیں تو وہاں بھی خدا تعالیٰ کا یہی سلوک نظر آتا ہے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو ہی دیکھ لو۔جب وہ فوت ہوئے تو ان کے پاس تین کروڑ روپیہ جمع تھا(اسد الغابۃ عبد الرحمن بن عوف )۔اس کے علاوہ اپنی زندگی میں وہ لاکھوں روپیہ خیرات کرتے رہے۔ا سی طرح صحابہؓ نے اپنے وطن کو چھوڑا تو ان کو بہتر وطن ملے۔بہن بھائی چھوڑے تو ان کو بہتر بہن بھائی ملے۔اپنے ماں باپ کوچھوڑا۔تو ماں باپ سے بہتر محبت کرنے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم مل گئے۔غرض اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والا کبھی بھی جزائے نیک سے محروم نہیں رہا۔وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ کہہ کر بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام دینے میں بخل تو تب ہو جبکہ خدا تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی ہو۔مگر وہ تو بڑی وسعت والا اور بڑی فراخی والا ہے اور پھر وہ علیم بھی ہے۔جانتا ہے کہ وہ شخص کس قدر انعام کا مستحق ہے۔اگر کوئی شخص کروڑوں گنا انعام کا بھی مستحق ہو۔تو اللہ تعالیٰ اسے یہ انعام دینے کی قدرت رکھتا ہے دنیا میں ہم روزانہ یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ زمیندار زمین میں ایک دانہ ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سات سودانے بنا کر واپس دیتا ہے۔پھر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے گا کیسے ممکن ہے کہ اس کا خرچ کیا ہوا مال ضائع ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کا کم از کم سات سو گنا بدلہ ضرور ملتا ہے۔اس سے زیادہ کی کوئی حدبندی نہیں۔اگر انتہائی حد مقرر کر دی جاتی تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو محدود ماننا پڑتا۔جو خدا تعالیٰ میں ایک نقص ہوتا اسی لئے فرمایا کہ تم خدا کی راہ میں ایک دانہ خرچ کروگے تو کم از کم سات سوگنا بدلہ ملے گا۔اور زیادہ کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کے انواع کی کوئی انتہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تو انجیل میں صرف اتنا فرمایا تھا کہ’’ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔‘‘ (متی باب ۶ آیت ۲۰) لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے خزانہ میں اپنا مال جمع کروگے تو یہی نہیں کہ اسے کوئی چرائے گا نہیں بلکہ تمہیں کم از کم ایک کے بدلہ میں سات سو انعام ملیں گے اور اس سے زیادہ کی کوئی حدبندی نہیں۔پھر حضرت مسیح ؑ کہتے ہیں۔وہاں غلہ کو کوئی کیڑا نہیں کھا سکتا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ صرف کیڑے سے ہی محفوظ نہیں رہتا بلکہ ایک سے سات سو گنا ہو کر واپس ملتا ہے۔بیشک اللہ تعالیٰ کسی انسان کی مدد کا محتاج نہیں مگر وہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اگر کسی کام کے کرنے کا انہیں موقع دیتا ہے تو اس لئے کہ وہ ان کے مدارج کو بلند کرنا چاہتا ہے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی نبی کو دنیا میں بھیجتا ہے تو اسے نئے سرے سے ایک جماعت قائم کرنی پڑتی ہے۔مگر اس کی ابتداء ایسی ہوتی ہے کہ دنیا اسے دیکھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کامیاب ہو جائے گا لیکن خدا تعالیٰ اس