تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 467
نازل ہو گا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت۔دوسری دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت۔تیسری دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے وقت اور چوتھی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر خدا تعالیٰ نے اپنا خاص فضل نازل کیا اور انہیں روحانی لحاظ سے زندہ کر دیا غرض اس میں قریب اور بعید دونوں زمانوں کیلئے پیشگوئی کی گئی تھی۔جو اپنے اپنے وقت میں بڑی شان سے پوری ہوئی۔اور خدا تعالیٰ کا عزیز اور حکیم ہونا ظاہر ہوگیا۔مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ( تعالیٰ )کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے اس فعل) کی حالت اس دانہ کی حالت کے حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ مشابہ ہے جو سات بالیں اگائے (اور )ہر بالی میں سو دانہ ہو اور اللہ جس کے حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۶۲ لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) بڑھا (بڑھا کر )دیتا ہے۔اور اللہ وسعت دینے والا (اور)بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغات۔یُضَاعِفُ کُلّیاتِ ابی البقاء میں لکھا ہے کہ اَقَلُّ الضِّعْفِ مَحْصُوْرٌ وَّ ھُوَ مِثْلُ الْوَاحِدِ وَ اَکْثَرُ ہٗ غَیْرُ مَحْصُوْرٍ یعنی ضعْف کی اقلّ ترین تعداد دوگنا ہوتی ہے۔لیکن زیادہ جتنی بھی ہو سب ضعف میں شمار ہوتی ہے۔تفسیر۔سابقہ رکوع میں اِحیاءِ قومی کی تین مثالیں دی گئی ہیں۔اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ ایک چوتھی تمثیل بیان فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ اگر تم دینی کاموں کے لئے اپنے اموال خرچ کرو گے تو جس طرح ایک دانہ سے اللہ تعالیٰ سات سودانے پیدا کر دیتا ہے۔اسی طرح وہ تمہارے اموال کو بھی بڑھائے گا۔بلکہ اس سے بھی زیادہ ترقی عطا فرمائے گا۔جس کی طرف وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ میں اشارہ ہے۔چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا۔حضرت ابوبکر ؓ نے بیشک بڑی قربانیاں کی تھیں۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کا پہلا خلیفہ بنا کر انہیں جس عظیم الشان انعام سے نوازا اس کے مقابلہ میں ان کی قربانیاں بھلا کیا حیثیت رکھتی تھیں! اسی طرح حضرت عمرؓ نے بہت کچھ دیا مگر انہوں نے کتنا بڑا