تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 449
میں اوپر بتا چکا ہوں کہ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ میں خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرما یا ہے کہ جو لو گ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کواللہ تعالیٰ بحیثیت قوم ترقی کی طر ف لے جاتا ہے مگر چو نکہ دنیا میں انسان کو قدم قدم پر مشکلات پیش آتی رہتی ہیں جن کو دیکھ کر بعض لوگو ں کو یہ دھو کا لگ جاتا ہے کہ اگراللہ تعالیٰ نے مو منوں کی کا میا بی کا وعدہ کیا ہے تو پھر انہیں مشکلات کیوں پیش آ تی ہیں۔اس لئے یاد رکھنا چا ہیے کہ یہ وعدے قومی طور پر کئے گئے ہیں نہ کہ انفرادی طور پر۔پس انفرادی تکا لیف اور مشکلات کو اس وعدہ کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔اگر کو ئی شخص مارا جاتاہے لیکن اس کے مر نے سے قوم کو فا ئدہ پہنچتا ہے تو وہ مر تا نہیں بلکہ زندہ ہو تا ہے۔ورنہ ظاہری تکا لیف کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسین علیہ السلام بھی شہید کر دئیے گئے تھے مگر وہ نا کام نہیں ہو ئے بلکہ اپنے مقصد میںکا میاب ہو ئے اور جس اصول کی خاطر انہوں نے قربانی پیش کی تھی وہ اصول آ ج بھی قا ئم ہے اور قیامت تک قائم رہےگا۔اسی طرح بعض انبیاء بھی شہید ہوئے۔مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے کہ وہ مارے گئے تھے(حمامۃ البشریٰ۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۱۵)۔پس جب نبی بھی مارا جا سکتا ہے تو اور کون ہے جو اس قسم کی تکالیف سے محفوظ رہے۔پس کسی فرد کا مارا جانا قوم کی نا کامی کی دلیل نہیں ہوتی۔جیسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بیشک مارے گئے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یز ید کو کوئی بھی اچھا نہیں کہتا اور امام حسینؓ کی سب عزت کر تے ہیں اور ان کا نام بڑے ادب اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور ان کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے۔اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔اوپر بتا یا تھا کہ اسلام کے لئے جبر کر نے کی ضرورت نہیں کیو نکہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ میں ممتا ز ہو چکی ہے۔اور جنگ کا حکم تمہیں اس لئے دیا گیا ہے کہ دشمن تم پر حملہ کر رہا ہے۔اب اس آ یت میں بتا یا کہ تمہارا انجام اچھا ہو گا اور تمہارے مخا لفوں کا بُرا۔خدا تعالیٰ تمہیں کامیاب کرے گا اور تمہارے دشمنوں کو ایسی تبا ہیوں سے دو چار کرےگا جن سے وہ ہمیشہ غیظ و غضب کی آگ میں جلتے رہیں گے اور اپنے چاروں طرف دوزخ ہی دوزخ پا ئیں گےجس سے نکلنے کا انہیں کو ئی راستہ نظر نہیں آئےگا۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ کیا تجھے اس شخص کی خبر نہیں پہنچی جو اس (غرور کی) وجہ سے کہ اللہ نے اسے حکومت دی رکھی تھی ابراہیم ؑ سے اس کے الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١ۙ قَالَ رب کے متعلق بحث کرنے لگ گیا۔(یہ اس وقت ہوا) جس وقت ابراہیم نے (اسے) کہا کہ میرا ربّ وہ ہے جو