تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 39

جب بڑا آدمی ادنیٰ کو یاد کرے تو اس کے معنے اس کو بلانے کے ہوتے ہیں۔کیونکہ اُس کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ(حٰمٓ السجدة : ۳۲)یعنی جنت میں جو کچھ تمہارا جی چاہےگا تم کو ملےگا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ تم کو عطا کیا جائے گا۔یہ خواہش بھی ایک طاقت اور قوت پر دلالت کرتی ہے۔کیونکہ اِدھر خواہش پیدا ہو گی اور اُدھر اللہ تعالیٰ اُس خواہش کو پورا کرنے کا سامان پیدا فر مادے گا۔دنیا میں اگر کسی کو کہا جائے کہ بادشاہ سلامت تمہیں یاد کرتے ہیں تو کیا مجال ہے کہ وہ فوراً اپنا کام نہ چھوڑ دے اور بادشاہ کی ملاقات کے لئے نہ چل پڑے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں نہ گیا تو میری خیر نہیں۔پس اس یاد میں ایک زبردست کشش اور طاقت ہوتی ہے اور جسے یاد کیا جاتا ہے وہ اس کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔پس اگر بادشاہ کی یاد عام یاد کے علاوہ معنی رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی یاد کے بھی اَور معنے ہو سکتے ہیں۔پس فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ کے یہ معنے ہیں کہ تم میرے ملنے کی خواہش کرومجھے یاد رکھو اور میرے قرب کے حصول کے لئے کوشش کرو اور جب تم ایسا کرو گے تو اَذْکُرْکُمْ میں بھی تمہیں یاد کروںگا۔جس کے یہ معنے ہیں کہ تم میری طرف کھچے چلے آؤگے۔میرے قرب کے دروازے تمہارے لئے کھل جائیںگے۔دنیا میں جب ایک معمولی بادشاہ بھی اس طرح یاد نہیں کرتا کہ وہ دوسرے کا نام لینا شروع کردے تو خدا تعالیٰ کی یاد کے یہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیں کہ وہ اس کے نام کا وظیفہ پڑھنے لگ جائے۔پس اَذْکُرْکُمْ کے یہ معنے ہیں کہ تم ہمارے حضور کھچے چلے آؤگے اور ہمارے مقربین میں شامل ہو جاؤگے۔یہ مراد نہیں کہ ہم تمہارا نام لینے لگ جائیں گے۔عربی زبان میں بھی کہتے ہیں کہ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ یَذْکُرُکَ۔یعنی امیرالمومنین آپ کو یاد فرماتے ہیں۔پُرانے زمانہ میں جب کسی کو پیغام دینا ہوتا تھا تو یہی الفاظ کہتے تھے۔اور اس سے یہ مراد نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنی جگہ بیٹھا رہے۔بلکہ مطلب یہ ہوتا تھا کہ تم فوراًاُن کے حضور پہنچ جاؤ۔پس فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْکے یہ معنے ہیں کہ تم میرا قرب حاصل کرنے کی پوری کوشش کرو۔جب تمہاری محبت اپنے کمال کو پہنچ جائے گی تو اس کے نتیجہ میں میں بھی تمہیں اپنا قرب دے دوںگا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بندہ کا ذکر عموماً تین قسم کا ہوتا ہے۔اوّل کسی اچھی یا بری بات کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کو یاد کر لینا۔جیسے گناہ کی تحریک ہو تو اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ کہنا۔کوئی مصیبت پہنچے تو اِنَّالِلّٰہِ کہنا۔خوشی کی خبر ملے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا۔دوم دوسرے کی بات سن کر اللہ تعالیٰ کو یاد کر لینا۔جیسے کسی مصیبت زدہ کا واقعہ سُنا تو اُس کے لئے دعا کی اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اپنے فضل سے ہمیں اس قسم کے مصائب سے بچا رکھا ہے۔سوم خدا تعالیٰ کے متعلق باتیںکرنایعنی اپنی مجالس میں خدا تعالیٰ کے رحم اور کرم کے متعلق گفتگو کرنا۔دشمنوں کے اعتراضات کا