تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 427
فضیلت دی تھی۔یعنی ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ بلند مقام رکھتے تھے اور بعض نسبتاً کم۔یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ پچھلے انبیاء کے ذکر پر طبعی طور پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ پہلے انبیاء تو ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور ان کا مقابلہ بھی صرف اپنی اپنی قوم کے افراد سے تھا۔کو ئی عالمگیر مخالفت ان کی نہیں ہوئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ دعویٰ ہے کہ میں ساری دنیا کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پھر آ پ ساری دنیا کے مقابلہ میں کس طرح فتح پا سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ پہلے رسولوں میں بھی توآپس میں درجہ اور مقام کے لحاظ سے فرق تھا۔یہ تو نہیں کہ سب ایک ہی درجہ رکھتے تھے۔آ خر کمال کے بھی ہزاروں درجے ہیں اور خود انبیاء میں بھی مدارج فضیلت میں فرق ہوتا ہے۔پس ان میں سے ہو نے کے یہ معنے نہیںکہ ان جیسا ہی درجہ بھی ہو۔اور کو ئی فضیلت نہ ہو۔مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام جن کا یہاں ذکر کیا گیاہے وہ نبی ہو نے کے علاوہ بادشاہ بھی تھے۔اور اس طرح ان کو بعض انبیاء کے مقابلہ میں ایک ظاہری فضیلت حاصل تھی اسی طرح آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فضیلت عطا کی گئی مگر داؤد کی فضیلت تو صرف چند نبیوںپر تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت سب انبیاء پر ہے بلکہ آپ نے تو یہاں تک فر مایا کہ اگر موسیٰ ؑ اور عیسٰیؑ بھی میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو وہ میری اطاعت کرتے(ابن کثیر تفسیر سورۃ ال عمران زیر آیت ۸۲،۸۳)۔مِنْھُمْ مِنْ کَلَّمَ اللّٰہُ سے بعض لوگوں نے بالمشافہ گفتگو کر نا مراد لیا ہے۔یعنی ایسے طریق پر کلام کرتا کہ درمیان میں جبرائیلی واسطہ نہ ہو مگر میرے نزدیکمِنْھُمْ مَنْ کَلَّمَ اللّٰہُ سے تشریعی نبی مراد ہیں اور رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ سے غیر تشریعی انبیاء مراد ہیں اس لئے کہ کلام تو ہر ایک رسول سے ہوتا ہے۔بغیر کلام کے وہ نبی کیو نکر ہو سکتا ہے اور درجہ بھی ہر ایک کا بلند ہوتا ہے۔لیکن جب مقابلہ ہو تو اس کے یہی معنے ہوںگے کہ بعض کو شریعت دی اور بعض کو صرف نبوت کا درجہ دیا گیا۔جیسے حضرت عیسٰیعلیہ السلام ہیں ان کو شریعت نہیں دی گئی محض نبوت عطا کی گئی ہے۔اس کا ثبوت قرآن کریم سے بھی ملتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی نسبت فر ما تاہے وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْ سٰیتَکْلِیْمًا (النسا ء :۱۶۵) اللہ تعالیٰ نے موسٰی سے خوب اچھی طرح کلام کیا۔یہ کہ کَلَّمَ اللّٰہُ کے معنے شریعت کے ہیں اس کا ثبوت ایک حدیث سے بھی ملتا ہے۔امام احمدؒ نے ابوذرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پہلے نبی آدم تھے۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ وَنَبِیٌّ کَانَ۔کیا وہ نبی تھے؟ آ پ نے فر ما یا۔ہاں! نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ ( مسند احمد بن حنبل مسند الانصار حدیث ابی ذر غفاری) وہ مکلَّم نبی تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض نبی مکلَّم نہیں ہو تے اور چو نکہ اللہ تعا لیٰ نے کلا م تو سب انبیاء سے کیا ہے