تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 425

جد عون کے ہاتھ سے تو دشمن کو صرف شکست ہوئی تھی مگر داؤدعلیہ السلام کے ہاتھوں ان کی کلّی تباہی ہوئی اور آپ نے انہیں نیست و نا بود کر دیا۔گو یا دشمن کے مقا بلہ کی ابتدا جد عون سے ہوئی اور اس کا انتہاء داؤد ؑ پر ہوا۔اسی لئے قرآن کریم میں قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ کے الفاظ آئے ہیں۔کہ داؤد نے جا لوت کا خا تمہ کر دیا۔اور طا لوت اور اس کے ساتھیوں کے متعلق صرف هَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ کے الفاظ آئے ہیں۔یعنی انہوں نے اپنے دشمنوں کو شکست دی۔تا ریخ سے ثا بت ہے کہ جد عون نے ۱۲۵۶ سنہ قبل مسیح میں مخا لفوں کو شکست دی اور ۱۱۶۱ قبل مسیح تک اس کی اور اس کے بیٹے کی حکو مت رہی۔اس کے بعد ۱۰۵۰قبل مسیح میں بنی اسرائیل کا کنعان پر داؤد کے ذریعے قبضہ ہوا۔غرض جد عون اور داؤد کے اکٹھا ذکر کر نے اور ان دونوں کے واقعات کو ملا کر بیان کر نے کی یہی وجہ ہے کہ جدعون وہ پہلا شخص ہے جس نے بنی اسرائیل کے دشمنوں کا مقا بلہ کیا۔اور یہود میں متحدہ قومیت کی روح پھو نکی۔اور داؤد علیہ السلام آ خری شخص ہیں جن کے ہاتھوں دشمن کی کلّی تباہی ہوئی غرض جدعون پہلا نقطہ ہے اور داؤد آ خری نقطہ۔وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۔میں بتا یا کہ اگر ہم شریروں کابعض دوسرے انسانوں کے ذریعے قلع قمع نہ کر تے تو دنیا میں فساد برپا ہو جاتا۔یہ اس لئے فر ما یا کہ جد عون اور داؤد دونوں کی جنگیں مذہبی تھیں۔کیونکہ ان کے دشمن ان کی عبادت گاہیں گرا کر ان کی جگہ اپنی عبادتگاہیں بنا دیتے تھے۔جیسا کہ جد عون کے متعلق قا ضیوں باب ۶ اور داؤد کی نسبت ۲۔سموایل سے ثابت ہے۔چو نکہ اسلام کو بھی مذہبی جنگوں کا سا منا کرنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جدعون اور داؤد کے واقعات پیش کر کے مسلمانوں کو تو جہ دلائی کہ اب تم بھی کھڑے ہو جاؤ اور شریروں کا مقابلہ کرو اور دنیا میں نیکی اور تقویٰ پھیلاؤ کیو نکہ بحروبّر میں فساد بر پا ہو چکا ہے۔اور اس امر کو یادرکھو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جدعون اور داؤد کو مدد دی تھی اسی طرح اب اس کی معجزانہ نصرت تمہارے لئے ظاہر ہو گی۔کیو نکہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور امن کبھی قائم نہ ہو۔تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۲۵۳ یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں اس حالت میں کہ تو حق پر (قائم) ہے اور تو یقیناً رسولوں میں سے ہے۔ِ تفسیر۔فر ماتا ہے طا لوت اور داؤد کے واقعات ہم نے قصہ کے رنگ میںبیان نہیں کئے بلکہ یہ