تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 420
دوم۔تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ کے الفا ظ سے ظاہر ہے کہ اسے ہمیشہ فتح ہی حاصل ہو تی تھی۔مگر ساؤل کو تو شکستیں بھی ہو ئیں اور پھر اس کا انجا م نہا یت حسر ت ناک ہوا(۱۔سموئیل باب ۳۱ آیت ۱ تا ۱۳)۔حالا نکہ قر آ ن کر یم کے بیان کے مطا بق ضروری ہے کہ اس کا مصداق ہمیشہ فتح پا تا رہا ہو۔سوم۔اس جگہ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَھَرٍ آ یا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ ان لو گوں کی ایک نہر کے ذریعہ آ زما ئش کی گئی تھی مگر سا ؤل کے زما نہ میں کسی نہر کے ذریعہ لو گوں کا امتحان لئے جا نے کا بائیبل میں کوئی ذکر نہیں آ تا۔پس ہمیں اس شخص کی تلا ش کے ساتھ نہر کے واقعہ کو بھی نظر انداز نہیں کر نا چا ہیے۔یہ عجیب بات ہے کہ با ئیبل ایک نہر کا ذکر ضرور کر تی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے ذریعہ ایک قوم کی آزمائش کی گئی۔ان کو صاف طور پر کہا گیا تھا کہ تم اس سے پا نی نہ پیئو۔مگر اکثر لو گوں نے پا نی پی لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پا نی پینے وا لے پیچھے رہ گئے اور نہ پینے والے حملہ کر کے دشمن پر غالب آ گئے(قاضیوں باب ۷ آیت ۴ تا ۵)۔گو یا قر آ نی بیان کی تصدیق ہو جاتی ہے مگر ساؤل کے زما نہ میں با ئیبل ایسا کوئی واقعہ بیان نہیں کرتی۔عیسا ئیوں نے اس وا قعہ پر اعتراض کر تے ہوئے لکھا ہے کہ یہ جد عون کا وا قعہ ہے اور جد عون اور دا ؤد میں دو سو سال کا فا صلہ ہے۔مگر قر آن نے ان دونوں وا قعات کو ملا کر بیان کر دیا ہے۔گو یا ان کے نزدیک قر آن کریم کا یہ کہنا کہ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ داؤد نے جا لوت کو قتل کیا غلط ہے۔کیو نکہ داؤد اور جا لوت میں دو سو سال کا فر ق تھا اور اس لحاظ سے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ داؤد جا لوت کو قتل کر سکتے۔میرے نزدیک جد عون کا وا قعہ جو با ئیبل نے بیان کیا ہے اور قرآ ن کریم کے بیان کر دہ وا قعہ میں صرف اس قدر فر ق ہے کہ بائیبل نے یہ نہیں بتا یا کہ اسے کسی نبی نے مقرر کیا تھا۔بلکہ اس میں صرف اتنا لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے پاس ایک نبی بھیجا جس نے انہیں کہا کہ خدا تعالیٰ فر ماتا ہے کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ۔’’ تم ان امور یوں کے دیوتاؤں سے جن کے ملک میں بستے ہو مت ڈرنا پر تم نے میری بات نہ مانی۔‘‘ (قضاۃ باب ۶ آیت ۱۰) اورپھر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جدعون کو خدا تعالیٰ کا فر شتہ دکھا ئی دیا اور اس نے کہا کہ اُٹھ اور مدیانیوں کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو چھڑا۔(قضا ۃ باب۶ آ یت ۱۴) با قی تمام واقعات جو قر آن کریم نے بیان کئے ہیں وہ با ئیبل میں مو جو د ہیں۔یہ امر یا د رکھنا چا ہیے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی وفات کا زمانہ ۱۴۵۱ قبل مسیح ہے۔اور جدعون کا وا قعہ