تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 419
اس کے تین بیٹوں کو مار ڈالا۔اور وہ خود بھی خود کشی کر کے مر گیا۔(۱۔سمو ائیل باب ۳۱ آ یت ۱تا ۵) حا لا نکہ قر آ ن کریم یہ کہتا ہے کہ فر شتے اس کی مدد کر تے تھے۔گو یا اسے فتح پر فتح حا صل ہو تی تھی۔پس اگر ساؤل کو ہی اس کا مصداق قرار دیا جا ئے تو قر آ نی علا مات اس پر چسپاں نہیں ہو تیں۔میں نے جب اس واقعہ پر غور کیا تو مجھے وہ معنے پسند آ ئے جس پر دشمنوں نے اپنی نا دانی سے اعتراض کیا ہے۔ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن کریم نے دو علیٰحدہ علیٰحدہ زما نوں کے وا قعات کو ملا کر بیا ن کر دیاہے۔اور مفسرین نے یہ کو شش کی ہے کہ وہ داؤد اور جالوت اور طالوت کا ایک ہی زما نہ ثابت کریں۔سا ؤل پر وہ اس وا قعہ کو اس لئے بھی چسپاں کر تے ہیں کہ وہ لمبے قد کا تھا اور دشمن کے ایک بڑے پہلوان کا نا م جا تی جو لیت( یعنی جا لوت) تھا۔(۱۔سموایل باب ۱۷ آیت ۴) مگر میرے نزدیک کسی شخص کی تعیین کر نے سے پہلے ضروری ہے کہ قر آ ن کریم کے بیان کر دہ وا قعات پر یکجائی نظر ڈالی جائے۔قرآن کر یم میں اس واقعہ کے متعلق پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَ بْنَآ ئِ نَا ہم اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے علیٰحدہ کئے گئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم جس کا یہا ں ذکر ہے اپنے گھروں سے نکا لی گئی تھی۔دوم۔ان پر ایک ایسا شخص بادشاہ بنا یا گیا تھا جو کسی اعلیٰ خا ندان یا شا ہی نسل میں سے نہیں تھا۔سوم۔وہ ایسا شخص تھا جس کی اللہ تعالیٰ مدد کر تا تھا اور جس کے سا تھی بھی منصور من اللہ تھے اور ان کے پاس ایک تا بوت تھا۔چہا رم۔ایک نہر کے ذریعہ ان کی آ زمائش ہو ئی تھی۔پنجم۔ان کی اور ان کے دشمنوں کی تعداد میں بڑا بھا ری فرق تھا۔ان کی تعداد دشمن کے مقا بلہ میں بہت ہی تھوڑی تھی اور پھر اس آ زمائش کی وجہ سے اس کی جماعت اور بھی کم ہو گئی۔ششم۔با وجود اس کے کہ اس کی فوج دشمن کی فو ج سے کم تھی وہ دشمن پر غالب آیا۔ان میں سے بعض با تیں بیشک سا ؤل پر بھی چسپاں ہوتی ہیں۔مثلاً سا ؤل کے مقرر کر نے میں ایک نبی کا دخل تھا۔ساؤل کو اپنے دشمنوں پر فتوحات بھی حاصل ہوئیں۔ساؤل کے ایک دشمن کا نام جا لوت بھی تھا۔مگر میرے نزدیک اس میں جو با تیں وزنی ہیں اور جن کی وجہ سے ساؤل کی بجا ئے کسی اور شخص کی تلا ش ہما رے لئے ضروری ہے وہ یہ ہیں۔اوّل۔اس میں مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی کے الفا ظ آتے ہیں۔میرا ذہن ان الفا ظ سے اس طرف منتقل ہو تا ہے کہ اس میں کسی ایسے زما نہ کا ذکر ہے۔جہاں سے بنی اسرائیل کی تا ریخ شروع ہو تی ہے۔ورنہ داؤد کے ذکر سے بنی اسرائیل تو وہ آ پ ہی ثا بت ہو جاتے ہیں۔پھر مِنْ بَعْدِ مُوْ سٰی کہنے کی کیا ضرورت تھی۔پس درحقیقت یہ الفا ظ ان کی قومی تاریخ کی طرف اشارہ کر نے کے لئے لا ئے گئے ہیں۔