تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 408
اور استقامت ایک بہت بڑا نشان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے خلفاء کو عطا کیا جاتا ہے۔وَ اللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَآءُمیں بتا یا کہ اگر تمہارے سوال صحیح بھی مان لئے جائیں تو بھی تمہارا کو ئی حق نہیں کہ اعتراض کر و کیو نکہ فیصلہ ہمیشہ ما لک ہی کیا کر تا ہے اور جب ملک خدا کا ہے تو وہ جسے چاہے دے اس میں کسی کو چون وچرا کی کیا مجال ہے؟جب ہم مالک کی اجا زت سے ملک اس کے سپر د کر تے ہیں تو پھر تم کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ دنیا میں یہ تسلیم شدہ اصل ہے کہ اگر کسی چیز کی ملکیت کے بارہ میں اختلاف ہو جا ئے تو اس با رہ میں اصل مالک کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔پس جب خدا نے اُسے اِس غرض کے لئے منتخب فر ما لیا ہے اور اصل حکومت خدا تعالیٰ ہی کی ہے تو تمہارا کیاحق ہے کہ تم اعتراضات کرو؟اِن الفا ظ سے متر شح ہو تا ہے کہ انہوں نے پھر کوئی سوال کر نا تھا کہ اچھااگر اسے علم دیا گیا ہے تو وہ کو نسا علم ہے یا کو نسی استقامت ہے جو اس نے دکھا ئی۔اس لئے پہلے ہی اس کا جواب دےدیا کہ وَ اللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَآءُ۔یعنی آ راء میں تو ہمیشہ اختلاف ہو تا ہے مگر جو مالک ہو اس کی رائے مقدم سمجھی جاتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ تمہاری رائے کے پیچھے کیوں چلے؟ خصوصاً جبکہ وہ واسع اور علیم ہے۔اس میں بتا یا کہ اگر تم مال کے متعلق کہو کہ اس کے پاس نہیں تو ہم واسع ہیں ہم اسے وسعت دے دیںگے۔اگر کہو کہ یہ حکومت کرنے کا اہل نہیں تو ہم خوب جا نتے ہیں کہ با دشاہت کا اہل کو ن ہے؟پس اگر تم نے لڑنا ہی ہے تو جاؤ خدا سے لڑو۔خدا کا ملک تھا اُس نے جسے چاہا دے دیا۔اِس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے آ نے والے انبیاء چونکہ کا مل شریعت لے کر نہیں آ ئے تھے اس لئے جب اصلاح خلق کےلئے الہا م کی ضرورت ہو تی تھی تو کسی نبی کو کھڑا کر دیا جا تا تھا۔اور اُسے نبوت کا مقام براہ راست حا صل ہو تا تھا۔اور جب نظام میں خلل واقع ہو تا تو کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا۔گویا چونکہ لوگوں کو ابھی اس قدر ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے جدو جہد کر سکتے اس لئے نہ صرف انبیاء کواللہ تعالیٰ براہ راست مقام نبوت عطا فر ما تا بلکہ ملوک بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی مقرر کئے جا تے تھے۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے وہ انتخا بی نہیں ہوتے تھے بلکہ یا تو ورثہ کے طور پر وہ حکومت حا صل کر تے تھے۔یا نبی انہیں خدا تعالیٰ کے حکم کے ما تحت با دشاہ مقرر کر دیتے۔مگر رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ ایک کامل تعلیم لےکر آئے تھے اور آ پ کی قوم زیادہ اعلیٰ درجہ کی تھی اس لئے آ پ کے بعد مستقل انبیاء کی ضرورت نہ رہی اور اس کے ساتھ ہی ملوکیت کی ادنیٰ صورت کو بھی اُڑا دیا گیا۔اور اس کی ایک کا مل صورت پیدا کر دی گئی۔اور انتخاب کو پہلی شرط قرار دیا گیا۔اس طرح قومی حقوق کو محفوظ کیا گیاجو پہلے با دشاہوںکی صورت میں محفوظ نہ تھا۔