تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 400
گنا برکا ت کا مو جب ہو گا۔مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًاحَسَنًا بظاہر تو ایک سوال ہے مگر اس کی غرض لوگوں کو تحر یص و تر غیب دلا نا ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیاکو ئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے را ستہ میں اپنا مال خرچ کر ے اور خدا تعالیٰ اس کے مال کو بڑھائے اور اسے اپنے قرب میں جگہ دے؟ اِس آ یت کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کو قرض حسنہ دیا کرو۔یعنی اس کے بندوں سے حسن سلوک کرو اور جو غریب ہیں ان کی مدد کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو کسی نے نہیں دینا بندوں ہی کو دینا ہوتا ہے۔بعض دفعہ بندوں کو دینے کا نام بھی خدا تعالیٰ کو دینا رکھا جاتا ہے۔جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ اے ابن آدم! میںبیمار ہوا لیکن تو نے میری عیادت نہ کی۔میں بھوکا رہا اور میں نے کھانا بھی مانگا مگر تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔میں پیا سا رہا اور تجھ سے پانی بھی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔اس کے بعد حدیث میں آتا ہے کہ بندہ خدا تعالیٰ سے پوچھے گا کہ اے اللہ! تو کب بیمار ہوا؟ کہ میں نے تیری عیادت نہ کی۔تو نے کب مجھ سے پانی مانگا؟ کہ میں نے تجھے پانی نہ پلایا۔تو نے کب مجھ سے کھانا مانگا؟ کہ میں نے تجھے نہ کھلایا۔اس پر خدا تعالیٰ فرمائےگا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی۔میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے اسے کھانا نہ کھلایا۔میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے اسے پانی نہ پلایا۔(مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب فی فضل عیادۃ المریض) پس خدا تعالیٰ کو قرض دینے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ اس کے بندوں سے نیک سلوک کیا جائے اور ان کی مالی پریشانیوں کو دور کرنے میں حصہ لیا جائے۔عیسائیوں نے اس حدیث پر اعتراض کیا ہے حالانکہ اس حدیث کے الفاظ بعینہٖ انجیل میں بھی آئے ہیں۔وہاں لکھا ہے۔’’ تب بادشاہ انہیں جو اس کے داہنے ہیں کہے گا۔اے میرے باپ کے مبارک لوگو! اس بادشاہت کو جو دنیا کی بنیاد ڈالنے سے تمہارے لئے تیار کی گئی میراث میں لو کیونکہ میں بھوکا تھا۔تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں پردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھر میں اتارا۔میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔قید میں تھا تم میرے پاس آئے۔اس وقت راست باز اسے جواب میں کہیں گے۔اے خداوند کب ہم نے تجھے بھوکادیکھا اور کھانا کھلایا۔پیاسا دیکھا اور پانی پلایا۔کب ہم نے تجھے پردیسی دیکھا اور اپنے گھر میں اتارا یا ننگا دیکھا اور