تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 330

حالت ہے کہ اگر کوئی شخص مرنے لگتا ہے تو اسے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں سب سے بڑا فکر اور اضطراب یہی ہوتا ہے کہ میرے بعد میرے بیوی بچوں کا کیا بنے گا۔کون ان کی پرورش کرے گا۔کون ان کی نگہداشت کرےگا کون ان کی طر ف محبت اور پیا ر کی نگاہ سے دیکھے گا؟؟ اور جب وہ شخص مر جاتا ہے اور اس کے بچوں کی پرورش کا سوال سامنے آتا ہے تو ایک شخص کہتا ہے میرا دل تو چاہتا ہے کہ بچہ لے لوں مگر کیا کروں مجھ پر بوجھ بڑا ہے۔دوسراکہتا ہے منشاء تو میرا بھی یہی تھا مگر مشکلات بہت ہیں۔تیسرا کہتا ہے میں بھی یہ ثواب حاصل کرنا چاہتا تھا مگر بہت مجبوری ہے۔اس طرح ایک ایک کر کے ہر شخص اس بوجھ سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن صحابہؓ میں یہ بات نہیں تھی وہ بھاگتے نہیں تھے بلکہ خوشی سے اس ثواب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔جب کسی قوم میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری کرنے لگ جائے ان کا احترام افراد قوم کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔ان کی پرورش میں انہیں سکون اور راحت حاصل ہو اور وہ یتیموں کو ایسا ہی سمجھیں جیسے ان کے اپنے بچے ہیں تواس وقت ایمان کے بغیر بھی وہ قوم بہادر بن جاتی ہے اور جب اس کے ساتھ کسی کو حیات بعد الموت پر ایمان بھی ہو اور زندہ خدا پر توکل ہو تو پھر تو یہ دو چیزیں مل کر اس کے دل کو ایسا مضبوط بنا دیتی ہیں کہ موت کا ڈر اس کے قریب بھی نہیں آتا۔یوروپین قوموں میں اگر ہمیں دلیری نظر آتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگرہم مر گئے تو ہماری قوم یتامیٰ و بیوگان کی خبر گیری کرےگی۔یہی وجہ ہے کہ مرنے والا موت کی ذرا بھی پروا ہ نہیں کرتا وہ جاتا ہے اور اپنی جان کو قربان کر دیتا ہے۔ایمان اور چیز ہے وہ زیادہ تر انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے نبی پر تازہ بتازہ ایمان لانا نصیب ہو مگر قومی کیریکٹر کی اس ر نگ میں مضبوطی ایمان کے بغیر بھی افرادِ قوم کو بہادر اور نڈر بنا دیا کرتی ہے۔وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ۔فرمایا اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو یعنی کھانے پینے تجارت اور دوسرے کام کاج میں ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔تم ایسا کر سکتے ہو۔مگر بھائی کہہ کر ذمہ داریاں بھی بتا دیں کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ ہونا چاہیے جو ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کرتا ہے۔بڑا بھائی جس کے سپرد چھوٹے بھائیوں کی نگرانی ہوتی ہے وہ اسی طرح کرتا ہے کہ ان کے مال کی حفاظت کرتا ہے۔انہیں کھلاتا پلاتا ہے اور بڑے ہونے پر ان کا مال ان کو دے دیتا ہے اسی طرح یتامیٰ کو بھائی کہہ کر توجہ دلائی کہ چھوٹے بھائیوں سے لینے کی امید نہ رکھو بلکہ انہیں اپنے پاس سے بھی کچھ دینا چاہیے۔اور ان کے ساتھ وہی معاملہ ہونا چاہیے جو بھائیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَمِنَ الْمُصْلِحِ میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اگر تم مصلح بن کر فساد کی بنیاد ڈالو گے اور یتامیٰ