تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 313
’’ اور جب مے گھٹ گئی۔یسوع کی ماں نے اس سے کہا کہ ان کے پاس مے نہ رہی۔یسوع نے اس سے کہا۔کہ اے عورت! مجھے تجھ سے کیا کام میرا وقت ہنوز نہیں آیا۔اس کی ماں نے خادموں کو کہا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے سو کرو۔اوروہاں پتھر کے چھ مٹکے طہارت کے لئے یہودیوں کے دستور کے مطابق دھرے تھےا ور ہرایک میں دو یا تین من کی سمائی تھی۔یسوع نے انہیں کہا۔مٹکوں میں پانی بھرو۔سو انہوں نے ان کو لبالب بھرا پھر اس نے انہیں کہا کہ اب نکالو۔اور مجلس کے سردار پاس لے جائو۔اور وے لے گئے جب میر مجلس نے وہ پانی جو مے بن گیا تھا چکھا اور نہیں جانا کہ یہ کہاں سے تھا مگر چاکر کہ جنہوں نے وہ پانی نکالا تھا جانتے تھے تومیر مجلس نے دولہا کو بلایا اور اسے کہا کہ ہر شخص پہلے اچھی مے خرچ کرتا ہے اور ناقص اس وقت کہ جب پی کے چھک گئے۔پر تونے تو اچھی مے اب تک رکھ چھوڑی ہے۔‘‘ مذکورہ بالاحوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائے عالم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تمام کے تمام مذاہب شراب کے جواز کا فتویٰ دیتے چلے آئے ہیں بلکہ اس کا استعمال بعض مذہبی رسوم میں بھی واجب رکھاجاتا رہا ہے اور اسے متبرک اور مفید شے قرار دیا جاتا رہا ہے۔ان مذاہب کی موجودگی اور ان کے رسوخ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ نے ان تمام مذاہب کی تعلیم کے خلاف اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اپنے پیروئوں کو سنایا کہ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ١ؕ قُلْ فِيْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا۔یعنی لوگ تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ شراب اور جُوئے کے متعلق کیا حکم ہے ؟ تُو کہہ دے کہ ان میں نقصان بھی بہت ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اس سے بھی زیادہ زوردار الفاظ میں شراب کو منع کیا گیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۔وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۔(المائدة:۹۱ تا۹۳) یعنی اے مومنو! شراب اور جُوا اور چڑھاوے کی جگہیں اور لاٹری شیطانی کاموں میں سے ہیں۔سو ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔شیطان سوائے اس کے اور کچھ نہیں چاہتا کہ تمہارے درمیان شراب اور جُوئے کے ذریعے عداوت اور بغض پیدا کر دے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز سے تم کو روک دے۔