تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 312
بنی اسرائیل میں رائج تھے موقوف کئے ہیں۔شراب کے متعلق پہلے حکم کو تبدیل نہیں کیا بلکہ انہوںنے بھی شراب کو خداوند کا چڑھاو اقرار دے کراس کو مقدس کہا ہے۔کیونکہ جیسا کہ گنتی باب۱۸ آیت۱۲ سے معلوم ہوتا ہے اچھی سے اچھی شراب کا حضرت ہارونؑ اور ان کی اولاد کے لئے جن کو کہانت کا عہدہ سپر د کیا گیا تھا وعدہ کیا گیا ہے اور بنی اسرائیل کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ عمدہ شرابیں خدا تعالیٰ کے نام پر معبد پر چڑھائیں جنہیں کاہن استعمال کریں۔یہ وعدے جو اوپر بیان ہوئے ہیں صرف حضرت ہارون ؑاور ان کی اولاد کے لئے ہیں۔مگر دوسرے بنی اسرائیل کو بھی خالی نہیں چھوڑا۔بلکہ ان کے لئے بھی حضرت موسیٰ ؑ سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں گے اور شریعت کی پابندی کریں گے تو ان کے رحم کے پھل اور ان کی زمین کے پھل اور ان کے غلّہ اور ان کی مے اور ان کے تیل اور ان کی گائیوں کی بڑھتی اور ان کی بھیڑوں کے گلوں میں اس زمین پر جس کی بابت اس نے ان کے باپ دادوں سے قسم کر کے کہا کہ تجھ کو دوںگا برکت بخشے گا۔(استثنا باب۷آیت ۱۳) اس حوالہ کے علاوہ تورات میں اور بھی کئی جگہ بنی ا سرائیل کے لئے شراب کی کثرت کا وعدہ کیا گیا ہے اور حضرت مسیح کی آمد تک جس قدر انبیاء اور سلاطین گذرے ہیں عموماً سب کے ذکروں میں شراب کا بیان ہے گویا ان کی تمام تاریخ سے شراب کا استعمال نہایت کثرت سے ثابت ہوتا ہے۔حضرت موسیٰ ؑ کے بعد مذہبی دنیا میں عظیم الشان تبدیلی کر دینے والی ہستی جس کے بعد نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی تغیر عظیم پیدا کرنےو الا انسان مبعوث نہیں ہوا حضرت مسیح ہیں۔اس وقت ان کے ماننے والوں کو دنیا میں ایک خاص مرتبہ اور عزت حاصل ہے۔اور ان کی تعلیم کووہ نہایت کامل اور مکمل ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے بھی شراب کے متعلق جو کچھ فتویٰ دیا ہے وہ اس کی تقدیس کا ہی ہے۔انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح شراب کو بُرا نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ خود اس کو استعمال کرتے تھے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ معجزانہ طور پر شراب بنا کر لوگوں کو پلاتے تھے۔حضرت مسیح کا خود شراب استعمال کرنا تو متی باب ۲۶ آیت۲۹ سے ثابت ہے جہاں لکھا ہے کہ مسیح نے حواریوں سے کہا کہ ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کے پھل کا رس پھر نہ پیوںگا اس دن تک کہ تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہت میں نیا نہ پیوں۔‘‘ اور ان کامعجزانہ طور پر شراب بنانا او ردوسروں کو پلانا یوحنا باب۲ آیت۳ تا ۱۰ سے ثابت ہوتا ہے۔ان آیات کا مضمون یہ ہے۔