تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 300

حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اعمال اس دنیا میں(بھی) اور آخرت میں( بھی )اکارت جائیں گے۔اور ایسے لوگ دوزخ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۱۸ (کی آگ میں پڑنے )والے ہیں۔وہ اس میں (دیر تک )رہیں گے۔تفسیر۔فرمایا یہ عزّت والے مہینوں یعنی محرم، رجب، ذیقعدہ اور ذوالحج کے متعلق تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ آیا ان میں لڑائی کرنا جائز ہے؟ یہ سوال کس طرح پیدا ہوا؟ اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو اس کے بعد بھی مکہ والوں کے جوشِ غضب میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی بلکہ انہوں نے مدینہ والوں کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں کہ چونکہ تم نے ہمارے آدمیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے اس لئے اب تمہارے لئے ایک ہی راہ ہے کہ یا تو تم ان سب کو قتل کر دو یا مدینہ سے باہر نکال دو ورنہ ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پر حملہ کر دیںگے اور تم سب کو قتل کر کے تمہاری عورتوں پر قبضہ کر لیں گے اور پھر انہوں نے صرف دھمکیوں پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ان ایام میں یہ کیفیت تھی کہ بسا اوقات آپؐ سار ی ساری رات جاگ کر بسر کرتے تھے۔اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنہم رات کو ہتھیار باندھ کر سویا کرتے تھے تاکہ رات کی تاریکی میں دشمن کہیں اچانک حملہ نہ کر دے۔ان حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو مدینہ کے قرب و جوار میں بسنے والے قبائل سے معاہدات کرنے شروع کر دیئے اور دوسری طرف ان خبروں کی وجہ سے کہ قریش حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں آپؐ نے ۲ سنہ ہجری میں حضرت عبداللہ بن جحشؓ کو بارہ آدمیوں کے ساتھ نخلہ بھجوایا اور انہیں ایک خط دے کر ارشاد فرمایا کہ اسے دو دن کے بعدکھولا جائے۔حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے دو دن کے بعد خط کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ تم نخلہ میں قیام کرو۔اور قریش کے حالات کا پتہ لگا کر ہمیں اطلاع دو۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس دوران میں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ جو شام سے تجارت کا مال لے کر واپس آرہا تھا وہاں سے گذرا۔حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر ان پر حملہ کر دیا۔جس کے نتیجہ میں کفار میں سے ایک شخص عمروبن الحضرمی مارا گیا اور دو گرفتار ہو ئے۔اور مال غنیمت پر بھی مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔جب انہوں نے مدینہ میں واپس آکر