تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 299
صرف اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی نگاہ رکھے اور اس سے دعائیں کرتا رہے کہ وہ اسے سیدھا راستہ دکھائے اور اپنی نیت اورارادہ کو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے تابع کر دے۔تب اس کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہو گی اور خیر اور برکت کے دروازے اس کے لئے کھولے جائیں گے۔آخر میں وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ کہہ کر بتایا کہ تم تو نہیں جانتے لیکن خدا تعالیٰ تمام حالات کو جانتا ہے۔یعنی تم کفار سے لڑائی کرنا رحم کے خلاف سمجھتے ہو۔حالانکہ بعض دفعہ شریر کو سزا دینا اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہوتا ہے اور اس کو چھوڑ دینا خود اس کے لئے اور دوسرے لوگوں کے لئے مضر ہوتا ہے۔پس چونکہ یہ لوگ اب بغیر جنگ کے باز آنے والے نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے۔يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ یہ(لوگ) تجھ سے حرمت والے مہینہ کے بارہ میں یعنی اس میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ فِيْهِ كَبِيْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ دے (کہ )اس میں جنگ کرنا بڑی (خرابی کی) بات ہے۔اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور اس کا( یعنی اللہ کا) اور الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ عزت والی مسجد کا انکار کرنا اور اس کے باشندوں کو اس میں سے نکال دینا اور اللہ کے نزدیک( اس سے بھی ) الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ بڑی بات ہے۔اور فتنہ (و فساد) قتل سے بھی بڑا (گناہ) ہے۔اور یہ لوگ اگر ان کی طاقت میں ہو تو تم سے لڑتے ہی حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ چلے جائیںتاکہ تمہیںتمہارے دین سے پھرا دیں۔اور تم میں سے جو (بھی ) يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ اپنے دین سے پھر جائے۔(اور )پھرکفر کی ہی حالت میں مر (بھی) جائے تو( وہ یاد رکھے کہ) ایسے لوگوں کے