تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 262

اور باطن بھی اچھا ہو۔تو حسنہ کا لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے۔اور مومن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھے جو چیز بھی دے وہ ایسی ہو جو ظاہری اور باطنی دونوں خوبیاں رکھتی ہو۔پھر فرمایا وَفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً آخرت میں بھی ہمیں وہ چیز دے جو حسنہ ہو۔یعنی وہ بھی ظاہر و باطن میں ہمارے لئے اچھی ہو۔ممکن ہے کوئی کہے کہ آخرت میں تو ہر چیز اچھی ہوتی ہے۔وہاں کی چیزوں کے لئے حسنہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات غلط ہے۔آخرت میں بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جو باطن میں اچھی ہیں مگر ظاہر میں بُری ہیں۔مثلاً دوزخ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ انسان کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔پس ایک لحاظ سے وہ اچھی چیز ہے۔مگر ایک لحاظ سے وہ بُری بھی ہے۔پس جب آخرت کے لئے خدا تعالیٰ نے حسنہ کا لفظ رکھا تو اس لئے کہ تم یہ دُعا کرو کہ الہٰی ہماری اصلاح دوزخ سے نہ ہو بلکہ تیرے فضل سے ہو۔اور آخرت میں ہمیں وہ چیز نہ دیجیئو جو صرف باطن میں ہی اچھی ہو۔جیسے دوزخ باطن میں اچھا ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے مگر ظاہر میں بُرا ہےکیونکہ وہ عذاب ہے۔آخرت میں حسنہ صرف جنت ہے۔جس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور جس کا باطن بھی اچھا ہے۔پھر فرمایا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ہم کو عذاب نار سے بچا۔اس سے مراد وہی عذاب نار نہیں جو مرنے کے بعد ملے گا۔یہ عذاب نار دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی دُعائوں کے بعد وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہا گیا ہے۔پس وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں دنیا کے عذاب نار سے بھی بچا اور آخرت کے عذاب نار سے بھی محفوظ رکھ۔ہم دیکھتے ہیں دنیا میں کئی لوگ عذاب نار میں گرفتار ہوتے ہیں۔انہیں کئی قسم کے دُکھ ہوتے ہیں، تکلیفیں ہوتی ہیں، حسرتیں ہوتی ہیں،قسم قسم کے مصائب ہوتے ہیں مگر جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ خدایا! مجھے عذاب نار سے بچا۔تو خدا تعالیٰ اُسے اس عذاب سے بچا لیتا ہے۔تب وہ چیزیں جو پہلے اس کے لئے نار تھیں جنت بن جاتی ہیں۔اسی طرح اس سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے جس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دُعا سکھلائی ہے۔بظاہر یہ ایک مختصر سی دُعا ہے مگر بڑی جامع اور وسیع دعا ہے۔عَذَابَ النَّارِ کے لحاظ سے دنیا کی لڑائی بھی مراد لی جا سکتی ہے۔کیونکہ لڑائی بھی آگ کا ہی عذاب ہے۔پس جو شخص یہ دُعا کرے گا کہ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔وہ گویا خدا تعالیٰ کے بیان فرمودہ الفاظ میں یہ دعا کرے گا کہ الٰہی! دنیا میں مجھ پر کوئی ساعت ایسی نہ آئے جو بُری ہو۔لڑائی مجھ سے دُور