تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 258
نے صرف ظاہر بتا دیا ہے اور باطن کو انسان پر چھوڑ دیا ہے۔مگر وہاں یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اکثر لوگ جانتے ہی نہیں کہ ہم نے یہاں دُعا یا عبادت کرنی ہے۔پس فرماتا ہے۔حج کے ایام میں تمہیں استغفار کی سخت ضرورت ہے۔کیونکہ حج میں ظاہر زیادہ نمایاں ہے اور باطن جو جوہر عبادت ہے مخفی ہے۔اگر انسان باطن کی طرف توجہ نہ کرے اور صرف ظاہر پر عمل کر کے سمجھ لے کہ اس نے شریعت کی اصل غرض کو پورا کر دیا ہے۔تو اس کا دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ پھر جب تم اپنی عبادتیں پوری کر چکو تو (گذشتہ زمانہ میں) اپنے باپ دادوں کو یاد کرنے کی طرح اللہ کو یاد کرو۔اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ یا(اگر ہوسکے تو اس سے بھی )زیادہ (دلبستگی سے) یاد کرو اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (یہی ) کہتے رہتے ہیں کہ اے اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ۰۰۲۰۱وَ مِنْهُمْ ہمارےرب! ہمیں اس دنیا میں (آرام) دے اور ان کا آخرت میں کچھ بھی حصّہ نہیں ہوتا۔اور ان میں سے کچھ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ (ایسے بھی ہوتے )ہیں جو کہتے ہیںکہ اے ہمارے رب!ہمیں (اس) دنیا (کی زندگی) میں (بھی) کامیابی دے حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۰۰۲۰۲ اور آخرت میں(بھی) کامیابی (دے) اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حلّ لُغات۔اَوْ کے معنے ’’ یا‘‘ کے بھی ہوتے ہیں اور یہ لفظ اظہار ترقی کے لئے بھی آتا ہے۔اسی طرح اَوْکا لفظ کسی چیز کو حقیر ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے(بحر محیط)۔اَشَدَّ یہ ذکر کی صفت ہے جو بطور حال پہلے بیان کر دی گئی ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے جب تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق حج بیت اللہ کا فرض ادا کر چکو تو خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔اہل عرب میں دستور تھا کہ جب وہ حج