تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 248
تک قربانی وہاں پہنچ نہ جائے اس وقت تک سر نہ منڈائے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمتع اور قِران کی خصوصیات جو خالی حج اور خالی عمرہ کے مقابلہ میں ہیں بیان فرمائی ہیں۔اور فَاِذَا اَمِنْتُمْ کے الفاظ اس لئے بڑھائے ہیں کہ اس حکم کو پہلے حکم کا حصہ نہ سمجھ لیا جائے۔اس حکم کو احصار کے ذکر کے بعد اس لئے بیان کیا کہ اس صورت میں بلا احصار قربانی ہونی چاہیے اور حج اور عمرہ میں احصار سے قربانی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔اس لئے اس کو احصار کے ذکر کے بعد بیان کیا۔اس جگہ تمتع اور قِران کی یہ خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ ان میں قربانی ضروری ہو گی خواہ احصار نہ ہی ہوا ہو۔اور جسے اس کی توفیق نہ ہو وہ جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے تین دن کے روزے مکہ میں اور سات دن کے روزے واپس آکر رکھے۔فرماتا ہے فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ۔(۱) بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تین دن کے روزے ذوالحج کی ساتویں۔آٹھویں اور نویں تاریخ کو رکھے جائیں (۲) حضرت امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں کہ اگر وہ ان ایام میں روزے نہیںرکھےگا تو اس پر قربانی بھی واجب ہو گی (۳) بعض کہتے ہیں کہ یہ روزے چونکہ قربانی کے بدلہ میں ہیں اس لئے حج کے بعدرکھنے چاہئیں (۴) بعض کہتے ہیں کہ یہ روزے واپسی سے پہلے مکہ میں ہی رکھنے چاہئیں (۵) بعض نے احرام عمرہ اور احرام حج کے درمیانی عرصہ میں روزے رکھنے کو کہا ہے۔(بحر محیط زیر آیت ھذا )۔میرے نزدیک یہ روزے ایام تشریق یعنی گیارھویں بارھویں اور تیرھویں ذوالحجہ کو رکھنے چاہئیں اور فِی الْحَجِّ سے مراد اس جگہ فِیْ اَیَّامِ الْحَجِّہے۔باقی سات روزے گھر پر بھی رکھے جا سکتے ہیں۔اس جگہ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ کا فقرہ اس لئے زائد کیا گیا ہے کہ وَسَبْعَۃٍ کی جگہ اَوْ نہ سمجھ لیا جائے اور غلطی سے یہ معنے نہ کر لئے جائیں کہ وہاں رکھے تو تین رکھے اور گھر رکھے تو سات رکھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آخر میں تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ فرما کر بتا دیا کہ صرف تین یا سات روزے رکھنا مراد نہیں بلکہ پورے دس روزے رکھنے مراد ہیں یا یہ الفاظ تاکید کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔اور تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ کے یہ معنے ہیں کہ یہ روزے ثواب یا قربانی کے قائم مقام ہونے کے لحاظ سے کامل فدیہ ہیں۔ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فرماتا ہے یہ حکم یعنی تمتّع کا صرف باہر کے لوگوں کے لئے ہے کیونکہ ان کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے مکہ والے تو ہر وقت عمرہ کر سکتے ہیں ان کے لئے تمتّع یا قِران نہیں ہے۔اس آیت کے بارہ میں مفسّرین میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے (۱) بعض کہتے ہیں کہ قربانی نہ ملنے کی