تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 241

کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غرباء کی امداد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ تم زکوٰۃ اور عُشر وغیرہ مقررہ ٹیکس بھی دو مگر اس کے علاوہ ہم تم سے بعض طوعی ٹیکس بھی مانگتے ہیں۔چنانچہ ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ہمیشہ غرباء کی امداد کےلئے روپیہ دیتے رہو۔وَ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ اور اپنے نفسوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔یعنی اے مالدارو! اگر تم اپنے زائد مال خوشی سے دے دو گے تو وہ تو زائد ہی ہیں تم کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہلاک ہو جائو گے۔یہ الفاظ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے زارِروس کے ساتھ ہونے والے واقعات کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ اگر ایسا نہ کرو گے تو جو کچھ زارِ روس اور روسی امراء یا فرانس کے امراء کا حال ہوا وہی تمہارا ہو گا۔آخر عوام ایک دن تنگ آکر لوٹ مار پر اُتر آئیں گے۔اور شاہ پوری محاورہ کے مطابق دُعائے خیر پڑھ دیں گے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس محاورہ کی تشریح یہ بیان فرمایاکرتے تھے کہ ہمارے علاقے میں کچھ مدت پہلے زمیندار بنیئے سے قرض لیتے جاتے تھے اور بنیا بھی دیتا چلاجاتا تھا کچھ عرصہ تک تو انہیں اس کا احساس نہ ہوتا۔مگر جب سب علاقہ اس بنیئے کا مقروض ہو جاتا اور زمینداروں کی سب آمد اس کے قبضہ میں چلی جاتی تو یہ دیکھ کر اس علاقے کا کوئی بڑا زمیندار تمام چودھریوں کو اکٹھا کرتا اور کہتا کہ بتائو اس بنیئے کا قرض کتنا ہے۔وہ بتاتے کہ اتنا قرض ہے اس پر وہ دریافت کرتا کہ اچھا پھر اس قرضے کے اترنے کا کوئی ذریعہ ہے یا نہیں۔وہ جواب دیتے کہ ہمیں تو کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔اس پر وہ کہتا کہ اچھا تو پھر ’’دُعائے خیر پڑھ دو‘‘۔چنانچہ وہ سب دُعائے خیر پڑھ دیتے۔اور اس کے بعد ہتھیار لے کر بنیئے کے مکان کی طرف چل پڑتے اور اُسے قتل کر دیتے اور اس کے بہی کھاتے سب جلا دیتے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایسی ہی حالت کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ دیکھو ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اگر تمہارے پاس زائد مال ہو تو اُسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر دیا کرو۔اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔یعنی بے شک کمائو تو خوشی سے مگر اس دولت کو اپنے گھر میں جمع نہ رکھا کرو۔ورنہ کسی دن لوگ تمہارے خلاف اُٹھ کھڑے ہوںگے اور تم ہلاک ہو جائو گے۔پھر فرماتا ہے وَاَحْسِنُوْا۔بلکہ اس سے بڑھ کر ہم تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ تم نیکی کرو اور وہ اس طرح کہ تم خود اپنی ضرورتوں کو کم کر کے اور مال بچا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا کرو۔مگر یاد رکھو کہ یہ عمل تم لوگوں سے ڈر کر نہ کرو بلکہ خوشی سے کرو۔اگر تم ڈر کر کرو گے تو غریبوں کی مدد توہو جائے گی مگر خدا تعالیٰ خوش نہیں ہو گا۔لیکن اگر خوشی سے یہ