تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 190

دی اوردوسری طرف جب خدا تعالیٰ کا سورج چڑھتا تو خدا تعالیٰ کا یہ عاشق صادق خدا تعالیٰ کا پیغام مکہ والوں کو پہنچانے کے لئے پھر نکل کھڑا ہوتا۔پھر تمام دن وہی گالیاں وہی دھمکیاں اور وہی ڈراوے ہوتے تھے اور اسی میں شام ہو جاتی۔مگر جب رات کا پردہ حائل ہوتا تو وہ سمجھتے کہ شاید آج یہ خاموش ہو گیا ہو گا۔مگر وہ جس کے کانوں میں خدائی آواز گونج رہی تھی۔وہ مکہ والوں سے دب کر کیسے خاموش ہو جاتا؟اگر تو اس کی رات سوتے گزرتی توبے شک اس پیغام کو بھول جاتا مگر جب اُس کے سونے کی حالت جاگنے ہی کی ہوتی تو وہ کیسے بھول سکتا تھا؟وہ سبق جو دوہرایا نہ جائے بیشک بھول سکتا ہے مگر جب آپ کی یہ حالت تھی کہ جو نہی سرہانے پر سر رکھا وہی اِقْرَئْ کی آواز آنی شروع ہو جاتی تو آپ کس طرح اس پیغام کو بھول جاتے؟ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو رمضان ہی میں یہ آواز آئی اور رمضان ہی میں آپ نے غار حرا سے باہر نکل کر لوگوں کو یہ تعلیم سنانی شروع کی۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اُترا۔دوسری جگہ فرماتا ہے اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ۔(القدر:۲،۳)یعنی قرآن لیلۃ القدر میں اُتارا گیا ہے۔رَمَضَان رَمَض سے نکلا ہے۔جس کے معنے عربی زبان میں جلن اور سوزش کے ہیں (اقرب)۔خواہ وہ جلن دھوپ کی ہو خواہ بیماری کی۔اس لئے رَمَضَان کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا موسم جس میں سختی کے اوقات اور ایام ہوں۔اور اِدھر فرمایا۔ہم نے اسے رات کو اتارا ہے اور رات تاریکی اور مصیبت پر دلالت کرتی ہے۔پس ان دونوں آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے۔کہ الہام کا نزول تکالیف اور مصائب کے ایام میں ہوا کرتاہے۔جب تک کوئی قوم مصائب اور شدائد سے دوچار نہیں ہوتی ،جب تک اُس کے دن راتیں نہیں بن جاتے ،جب تک وہ بھوک اور پیاس کی شدّت سے تکلیف نہیں اُٹھاتی، جب تک انسانی جسم اندر اور باہر سے مصیبت نہیں اٹھاتا اُس وقت تک خدا تعالیٰ کا کلام اُس پر نازل نہیں ہوسکتا۔اور اس ماہ کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی بتایا ہے کہ اگر تم اپنے اوپر الہام الٰہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تکالیف اور مصائب میں سے گذرو اِس کے بغیر الہام الٰہی کی نعمت تمہیں میسّر نہیں آسکتی۔پس رمضان کلام الٰہی کو یاد کرانے کا مہینہ ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اس مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت زیادہ کرنی چاہیے اور اسی وجہ سے ہم بھی اس مہینہ میں درسِ قرآن کا انتظام کرتے ہیں۔دوستوں کو چاہیے کہ اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کیا کریں اور قرآن کریم کے معانی پر غور کیا کریں تاکہ اُن کے اندر قربانی کی روح پیدا ہو جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔بہر حال یہ مہینہ بتاتا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا فتح کرے اُس کےلئے ضروری ہے کہ وہ غار حرا کی علیحدگیوں میں جائے۔دنیا چھوڑے