تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 189
دروازے کھولنے والے دن جب دنیا کی گھنائونی شکل اس کے بد صورت چہرے اور اس کے اذیت پہنچانے والے اعمال سے تنگ آکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں جا کر اور دنیا سے منہ موڑ کر اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر صرف اپنے خدا کی یاد میں مصروف رہا کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ دنیا سے اس طرح بھاگ کر وہ اپنے فرض کو ادا کریںگے جسے ادا کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے۔انہی تنہائی کی گھڑیوں میں انہی جدائی کے اوقات میں اور انہی غور وفکر کی ساعات میں رمضان کا مہینہ آپ پر آگیا۔اور جہاں تک معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے چوبیسویں رمضان کو وہ جو دنیا کو چھوڑ کر علیحدگی میں چلا گیا تھا اسے اس کے پیدا کرنے والے اُس کی تربیت کرنے والے، اُس کو تعلیم دینے والے اور اس سے محبت کرنے والے خدا نے حکم دیا کہ جاؤ اور جا کر دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھاؤ۔اور بتایا کہ تم مجھے تنہائی میں اور غار حرا میں ڈھونڈتے ہو مگر میں تمہیں مکہ کی گلیوں اور ان کے شوروشغب میں ملوں گا۔جاؤ اور اپنی قوم کو پیغام پہنچا دو کہ میں نے تم کو ادنیٰ حالت میں پیدا کر کے اور پھر ترقی دے کر اس لئے دنیا میں نہیں بھیجا کہ کھاؤ پیؤ اور مر جاؤ اور کوئی سوال تم سے نہ کیا جائے۔آپ اس آواز کو سن کر حیران رہ گئے۔آپ نے جبرائیل کو حیرت سے دیکھ کر کہا کہ مَااَنَا بِقَارِیئٍ۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔یعنی اس قسم کا پیغام مجھے عجیب معلوم ہوتا ہے۔کیا یہ الفاظ میرے منہ سے مکہ والوں کے سامنے زیب دیںگے ؟ کیا میری قوم ان کو قبول کرے گی اور سُنے گی؟ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متواتر حکم دیا گیا کہ جاؤ اور پڑھو۔جاؤاور پڑھو۔جاؤاور پڑھو۔تب آپ نے اس آواز پر اس ارشاد کی تعمیل میں تنہائی کو چھوڑا اور جلوت اختیار کی۔مگر وہ کیسی مجلس تھی۔وہ ایسی نہ تھی کہ جس میں ایک دوست بیٹھ کر دوسرے دوست کے سامنے اپنے شکوے بیان کرتا ہے ،وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں دوست اپنے دوست کے خوش کر نے والے حالات سنتا اور اس سے لطف اٹھاتا ہے ، وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں انسان اپنی ذہنی کوفت اور تھکان دُور کرتا ہے۔وہ قصوں اورکہانیوں والی مجلس نہ تھی،شعروشاعری کی مجلس نہ تھی۔وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں مباحثات اور مناظرات ہوتے ہیں۔بلکہ وہ مجلس ایسی تھی جس میں ایک طرف سے متواتر اور پیہم اخلاص کا اظہار ہوتا تھا تو دوسری طرف سے متواتر اور پیہم گالیاں، دُشنام،ڈراوے اور دھمکیاں ملتی تھیں۔وہ ایسی مجلس تھی جس میں ایک دفعہ جانے کے بعد دوسرے دن جانے کی خواہش باقی نہیں رہتی۔وہ ایسی گالیاں اور ایسے ارادے اور ایسی دھمکیاں ہوتی تھیں کہ ایک طرف اُن کے دینے والے سمجھتے تھے کہ اگر اس شخص میں کوئی حِس باقی ہے تو کل اس کے منہ سے ایسی بات ہرگز نہیں نکلے گی۔وہ خوش ہوتے تھے کہ آج ہم نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بند کر