تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 175
مومن کی وہ قلبی کیفیت ہے جو وضو سے تعلق رکھتی ہے۔اب یہ دیکھنا چاہیے کہ وضو کی کیا حقیقت ہے؟ وضو کے ذریعہ جو فعل ہم کرتے ہیں وہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ کوئی چیز جسم سے خارج نہ ہو خواہ وہ پیشاب پاخانہ کے رنگ میں خارج ہو خواہ مرد عورت کے تعلقات کے ذریعہ سے خارج ہو یا اور ایسے رنگوں سے خارج ہو جن سے طہارت کو نقصان پہنچتا ہے۔غرض وضو کا مدار کسی چیز کے جسم سے نہ نکلنے پر ہے۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نماز کی طہارت کا مدار اس امر پر ہے کہ کوئی چیز جسم سے خارج نہ ہو۔لیکن روزہ کی طہارت کا مدار اس امر پر ہے کہ کوئی چیز جسم کے اندر داخل نہ ہو۔بیشک روزہ میں مرد و عورت کے تعلقات سے بھی روکا گیا ہے مگر یہ اس لئے ہے کہ روزہ کی حالت میں انسان کی کلّی توجہ اور طرف نہ ہو۔ورنہ روزہ کا اصل مدار کسی چیز کے جسم میں داخل نہ ہونے پر ہے۔اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ روزہ کا مدار اس امر پر ہے کہ کوئی چیز جسم میںداخل نہ ہو۔اگر صرف نماز ہی ہوتی اور وضو صرف ظاہری صفائی ہوتا تو کہا جاتا کہ اس سے مراد صرف ہاتھ منہ اور پائوں کا دھونا ہے۔اسی طرح اگر روزہ ہوتا اور کوئی چھوٹی موٹی چیز کھالی جاتی تو کہا جاسکتا تھا کہ روزہ سے مراد فاقہ کرانا ہے۔لیکن جسم سے کچھ خارج ہونے سے وضو کا باطل ہو جانا اور کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے روزہ کا ٹوٹ جانا بتاتا ہے کہ کسی چیز کے خارج ہونے کا نماز سے اور کسی چیزکے اندر داخل ہونے کا روزہ سے تعلق ہے۔اور ان دونوں کو ملا کر یہ لطیف بات نکلتی ہے کہ انسان طہارت میںاس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ دو احتیاطیں نہ کرے۔یعنی بعض چیزیں اپنے جسم سے نکلنے نہ دے اور بعض چیزیں داخل نہ ہونے دے۔اگر ہم ان دو باتوں کا لحاظ رکھ لیں کہ بعض چیزوں کو جسم سے نکلنے نہ دیں اور بعض کو داخل نہ ہونے دیں تو طہارت کامل ہو جاتی ہے۔نماز اور روزہ سے مجموعی طور پر انسان کو یہ گُر سکھایا گیا ہے کہ ہر انسان کو یہ امر مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ بعض چیزوں کے جسم سے نکلنے کی وجہ سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے ان کو نکلنے نہ دے اور بعض چیزوں کے جسم میں داخل ہونے کی وجہ سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے انہیں داخل نہ ہونے دے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی گندی چیزیں ہیں جن کا نکلنا روحانیت کے لحاظ سے مضر ہوتا ہے۔دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ گند کا نکلنا ہی اچھا ہوتا ہے۔کیا ایسے گند بھی ہیں جن کا نہ نکلنا اچھا ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہمیں قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گند ایسے بھی ہیں جن کا نہ نکلنا ہی اچھا ہوتا ہے۔مثلاً کسی کی طبیعت میں غصہ زیادہ ہے۔اگر کسی موقعہ پر اسے سخت غصہ آگیا مگر وہ اسے نکلنے نہیں دیتا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ (اٰل عمران :۱۳۵) نیک اور متقی انسان کو بھی غصہ آجاتا ہے مگر وہ اسے